صیانتی اندیشوں پر سعودی میں امریکی سفارتخانہ بند

ریاض۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام)سعودی عرب میں امریکی سفارتخانہ نے اپنی قونصل خدمات گذشتہ دو دن سے معطل کررکھی تھیں کیونکہ صیانتی اندیشوں میں اضافہ ہوگیا تھا ‘ جب کہ مغربی ممالک سے تیل کارکنوں کو دھمکیاں دی گئی تھی ۔ ریاض میں تمام خدمات اور جدہ اور دہران میں قونصل خدمات اتوار کے دن سے منسوخ کردی گئی ہیں ۔ آئندہ دو دن تک یہ خدمات دستیاب نہیں رہیں گی ۔ سفارتخانہ کی ویب سائیٹ پر شائع کردہ ایک پیغام میں سفارتخانہ نے امریکی شہریوں کو انتباہ دیا ہے کہ وہ معمول سے زیادہ احتیاط برتیں اور جب بھی عوامی مقامات پر جائیں انکسار کا رویہ اختیار کریں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں پر سعودی عرب میں سفر کے دوران خطرات کے پیش نظر انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے ۔

جمعہ کے دن سفارت خانے نے انتباہ دیا تھا کہ مغربی ممالک کے تیل کارکنوں کو دہشت گرد گروپ کی جانب سے اغوا کرلئے جانے کا خطرہ ہے ۔ تاہم بیان میں خطرہ کس سے لاحق ہوسکتا ہے اُس کی شناخت نہیں کی گئی اور نہ کوئی تفصیلات منصوبہ بند حملوں کے بارے میں فراہم کی گئی ۔ سعودی عرب امریکہ زیرقیادت فضائی حملوں میں شریک ہے ‘ جو ستمبر سے دولت اسلامیہ کے جہادیوں پر شام اور عراق میں کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے جوابی ردعمل کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اکٹوبر سے اب تک مغربی ممالک کے شہریوں پر سعودی عرب میں حملے ہوچکے ہیں ۔ تازہ ترین حملہ گذشتہ ماہ ہوا تھا جب کہ امریکی دفاعی گتہ دار ونیل عربیہ نے کہا کہ اُس کے دو امریکی ملازمین پر مشرقی صوبہ میں گولی چلائی گئی ‘ جہاں سعودی عرب کی زیادہ تر تیل کی دولت مرتکز ہے ۔سعودی پولیس کے بموجب زخمیوں میں سے ایک سے تحقیقات کے نتیجہ میں کئی انکشافات ہوئے ۔ یہ شخص مقام ملازمت سے کار کے ذریعہ اپنی قیامگاہ واپس ہورہا تھا جب کہ اُس پر فائرنگ کی گئی تھی ۔