صفائی مہم کے ساتھ چھوت چھات کے خلاف بھی تحریک

نئی دہلی ۔ 13 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نہ صرف گندگی اور غلاظت کے خلاف صاف صفائی کی مہم چلا رہے ہیں بلکہ چھوت چھات کے خلاف بھی فیصلہ کن جدوجہد کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک نے انسداد چھوت چھات ( دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ) کے لیے بہت کچھ کیا ہے لیکن بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے جو کہ ہم کررہے ہیں ۔ انہوں نے آج یہاں ایک اجتماع بعنوان ’ چھوت چھات مزید نہیں ‘ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی نے ذات پات کے امتیازات کے خلاف تحریک شروع کی تھی اور ہمارے وزیر اعظم نے بھی صفائی مہم کا آغاز کیا ہے تاہم یہ لڑائی نہ صرف گندگی و غلاظت کے خلاف ہے بلکہ چھوت چھات کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کی جارہی ہے ۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ تنگ نظر لوگ عظمت کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکتے اور جرات مند لوگ ہی غلامی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں ۔ سلابھ انٹرنیشنل کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر ایک کو چاہئے دوست ہو یا دشمن خاندان کے رکن کی حیثیت سے قبول کرلیا ۔ قبل ازیں وزیر داخلہ نے دلت خواتین کے ساتھ ظہرانہ کیا اور انہیں شیرنی پیش کی ۔ اس تقریب میں سینئیر بی جے پی لیڈر مرلی منوہر جوشی ، بی جے پی رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال اور سلابھ انٹرنیشنل کے بانی بندیشورپاٹھک شریک تھے ۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے بعض خواتین کے ساتھ ظہرانہ کیا ہے اور ان کے حسن سلوک سے بہت ہی متاثر ہوا ہوں ۔ اور یہ میرے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا اور ان لوگوں میں کوئی بھید بھاؤ نہیں دیکھا گیا کیوں کہ دنیا کو یہ پیام دینا ہے کہ پوری دنیا ایک خاندان ہے ۔ دریں اثنا وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے مسلمانوں کے حق رائے دہی کو منسوخ کردینے سے متعلق شیوسینا ایم پی سنجے راؤت کے مطالبہ کے تنازعہ میں پھنسنے سے انکار کردیا ۔ جب کہ شیوسینا مرکز اور مہاراشٹرا میں بی جے پی کی حلیف جماعت ہے ۔ شیوسینا کے ترجمان سامنا کے اداریہ کے بارے میں میڈیا کے نمائندوں نے تبصرہ کی خواہش کی تو جواب کوٹال دیا اور صرف یہ کہا کہ چھوت چھات کا ہر قیمت پر خاتمہ ہونا چاہئے ۔ یہ دریافت کیے جانے پر کہ سیاست میں بھی چھوت چھات ختم ہونا چاہئے ۔ انہوں نے پھر یہ اعادہ کیا کہ اچھوت پن کسی بھی شکل میں کیوں نہ ہو ختم کردینا چاہئے ۔۔