زیورخ۔ 23؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ روس اور قطر کو فٹبال ورلڈ کپ ٹورنمنٹس کی میزبانی دیے جانے کے بعد بدعنوانیوں کی کہانیاں سامنے آئی ہیں۔ اس بات نے عالمی گورننگ باڈی فیفا کے مرد آہن کو بھی ہلادیا ہے۔ وہ عالمی تنظیم میں اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید شبہات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارہ نے تازہ ترین رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ فیفا کے اہلکاروں اور اس کے صدر سیپ بلاٹر کے درمیان صدر کے مستقبل کے بارے میں پوشیدہ بات چیت ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گفتگو جس میں فٹبال کنفیڈریشن کے بہت سے نمائندے شامل ہیں، اکتوبر 2013ء میں فٹبال اسوسی ایشن کی 150 سالہ تقریبات کے موقع پر شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد بلاٹر نے واضح کیا تھا کہ وہ مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے اور پانچویں مرتبہ اس ادارہ کی صدارت کرنا چاہیں گے۔ انتخابات کے لئے امیدوار کی 29 جنوری کی قطعی تاریخ قریب آتی جارہی ہے، فیفا کی انتظامیہ میں ادارہ کی سمت اور سربراہ کے موضوع پر تشویش نظر بڑھ چکی ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں منیلا میں بات کرتے ہوئے بلاٹر نے کہا تھا کہ فیفا کو بنانے والی چھ کنفیڈریشنز میں سے انھیں پانچ کی حمایت حاصل ہے۔ 2018ء اور 2022ء ورلڈ کپ منعقد کرانے کے لئے لگائی جانے والی بولیوں سے پیدا شدہ بحران کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔ اس معاملہ میں اخلاقیات کمیٹی کے جانچ سربراہ مائیکل گارشیا نے گزشتہ ہفتہ استعفیٰ دے دیا تھا۔