نئی دہلی ۔9مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج فیصلہ کیا کہ وہ جاریہ لوک سبھا انتخابات میں ووٹ نہیں دیں گے تاکہ سیاسی میدان میں اپنی غیرجانبداری ظاہر کرسکیں ۔ انہوں نے ڈاک کے ذریعہ رائے دہی کی تمام تیاریاں کرلی تھی۔ اس طرح وہ پہلے سربراہ مملکمت بن جاتے جنہوں نے اپنے پیشروؤں کی روایت برقرار رکھتے ہوئے جنہوں نے حق رائے دہی سے استفادہ نہیں کیا اسلئے انہوں نے بھی ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سیاسی میدان میں اپنی غیرجانبداری ظاہر کرسکیں ۔ صدر جمہوریہ کے پریس سکریٹری وینو راجہ مونی نے آج کہا کہ پرنب مکرجی جو ملک کے 14ویں صدر ہیں حکم دیا تھا
کہ ڈاک کے ذریعہ اپنا ووٹ جنوبی کولکتہ لوک سبھا نشست کیلئے روانہ کریں گے جہاں 12مئی کو رائے دہی مقرر ہے ۔ وہ جنوبی کولکتہ پارلیمانی نشست کے مسلمہ رائے دہندے ہیں جو 160 راش بہاری کے ساکن ہیں ۔ اُن کا فیصلہ کہ اُن کے بیشتر پیشروؤں نے ایسا ہی کرتے ہوئے ایک روایت قائم کی ہے ۔ انہوں نے بھی اس پر عمل کیا فیصلہ کیا ۔ راجہ مونی نے کہا کہ جنوبی کولکتہ میں کثیر جہتی مقابلہ ہے ۔ کانگریس کے امیدوار مالا رائے اور بی جے پی کے امیدوار اس کے ریاستی صدر ٹاٹاگٹّا راے ہیں ۔ ترنمول کانگریس نے موجودہ رکن پارلیمنٹ سبراتا بخشی کو اور سی پی آئی ایم نے پروفیسر نندنی مکرجی کو امیدوار نامزد کیا ہے ۔