نئی دہلی 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطبہ میں ترمیم کے مسئلہ پر ووٹوں کی تقسیم پر حکومت کو پشیمانی اُٹھانے کے ایک دن بعد ناخوش وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی پارٹی بی جے پی اور این ڈی اے حلیفوں کے ارکان سے وضاحت طلب کی ہے کہ ووٹنگ کے اہم مرحلہ پر ایوان سے وہ کیوں غیر حاضر تھے۔ بی جے پی 46 میں 10 اور حلیف جماعتوں کے 12 ارکان اس وقت ایوان میں غیر حاضر تھے جب سی پی آئی ارکان سیتارام یچوری اور بی راجیو نے صدرجمہوریہ کے خطبہ میں ترمیم اور ووٹوں کی تقسیم کا اصرار کرتے ہوئے ایک تحریک پیش کی جبکہ یہ ترمیم 118 ووٹوں کی تائید اور 57 ووٹوں کی مخالفت سے منظور کرلی گئی تھی۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ تمام ارکان بشمول دو تین وزراء جوکہ ایوان میں ووٹنگ کے وقت موجود نہیں تھے ان کی غیر حاضری کی وجہ دریافت کیا گیا۔ چونکہ راجیہ سبھا میں این ڈی اے اقلیت میں ہے جس کے باعث ان کی حاضری انتہائی ضروری ہوجاتی ہے۔ غیر حاضر ارکان سے وضاحت طلبی کے باعث آئندہ اس طرح کی صورتحال رونما ہونے پر ان کی حاضری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی کے 46 اور این ڈی اے کے حلیفوں میں تلگودیشم کے 6 ، شیوسینا کے 3 ، شرومنی اکالی دل کے 3 ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے 2 اور دیگر چھوٹی پارٹیوں کے ایک ایک ارکان ہیں۔ تاہم این ڈی اے نے تقسیم کے وقت 57 ووٹ حاصل کئے تھے گوکہ اس کی حلیف انا ڈی ایم کے ارکان غیر حاضر اور بعض آزاد ارکان نے ترمیم کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اگرچیکہ ایوان میں اپوزیشن کے تمام ارکان موجود نہیں تھے لیکن سی پی ایم کی ترمیم کے حق میں تمام اپوزیشن ارکان بشمول کانگریس، ایس پی، بی ایس پی، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے اور بی جے ڈی، جنتادل (متحدہ) اور سی پی آئی سے متحدہ طور پر ووٹ دیا ہے۔