بیدر میں یوم مخالفت تمباکو پروگرام سے ڈاکٹر سی ایس رگٹے اور دیگر کا خطاب
منااکھیلی۔15جون(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)سگریٹ نوشی اور تمباکو سے بنی اشیاء کے استعمال سے انسانی جسم پر برااثر پڑتاہے۔ صحت مند سماج کی تعمیر کے لئے تمباکو کے استعمال کو ترک کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر سی ایس رگٹے نے یہ بات کہی۔ وہ ’’تمباکو سے پاک یوم‘‘ سے خطاب کررہے تھے۔ موجودہ سال تمباکو پر ٹیکس بڑھایاگیاہے۔ جس کی بناپر تمباکو کے استعمال میں کمی واقع ہونے کی توقع ہے۔ نئی نسل تمباکو کے استعمال سے ہونے والے نقصان سے نابلد ہے۔ اس ضمن میں نئی نسل میں بیداری ضروری ہے۔ لوگوں میں بیداری پید اہوگی تو جان لیوا بیماریوں سے انسانوں کو چھٹکارا مل سکتاہے ورنہ نہیں ۔ تقریب کی صدارت محکمہ صحت اور خاندانی منصوبہ بندی محکمہ کے ذمہ دار ڈاکٹر مدنا ویجناتھ نے کی ۔ اور کہاکہ سگریٹ نوشی ، تمباکو کے استعمال اور گٹکھے کے استعمال کو سب سے پہلے ہمیں ترک کرناہوگا۔ ضلع صحت کے نائب افسر سبھاش مدھاڑے نے بتایاکہ غذائی تحفظ بل اور اس کے قانون 2011کے بموجب صحت کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی چیز کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح تمباکو ، نیکوٹن اور دیگر نشیلی ادویات کا استعمال نہ ہو۔ قانون کے مطابق ملک کی 24ریاستوں اور 3علاقہ تحت مرکز میں پابندی ہے۔ تمباکو استعمال کرنے سے ملک میں ہرسال 10لاکھ سے زائد لوگوں کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس سے ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لئے ہرسال 2135کروڑ روپئے خرچ کئے جاتے ہیں ۔ کرناٹک میں 2.16کروڑ کی قیمت کی تمباکو اشیاء کااستعمال نئی نسل کرتی ہے۔ اس میں 19فیصد مرد اور 16فیصد خواتین شامل ہیں ۔ 8.2فیصد دیہی علاقہ اور 6.2فیصد شہری تمباکو استعمال کرتے ہیں ۔ اس سے نئی نسل کی صحت پر برااثر پڑرہاہے۔ مہمان لیکچرر کی حیثیت سے حصہ لینے والے لیبر افسر جی سدالنگپا نے کہاکہ کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور ٹائم پاس کرنے وقفہ کے وقت بیڑی ، سگریٹ ،اورتمباکو اور گٹکھا جیسی چیزوں کے استعمال کا شکار ہوکر قلب کی بیماریوں ، اور کینسر جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ دیہی علاقوں میں کام کرنے والے خصوصاًنابالغ لڑکے اس طرح کی عادتوں میں گھر کر بیماریوں کاشکار ہوجاتے ہیں ۔ ڈاکٹر شیوشنکر بی نے استقبال کیا۔ ضلع صحت تعلیم کے افسر ومن راؤ واگھمارے نے اظہارتشکر کیا۔