شیوسینا لیڈر کے مسلم مخالف ریمارکس پر وزیراعظم سے وضاحت کا مطالبہ

مسلمانوں کے حق رائے دہی کی تنسیخ کے مطالبہ پر مسلم تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل
لکھنو/ ممبئی ۔ 13 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں کے حق رائے دہی کے خلاف شیوسینا لیڈر کے ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے دو نامور مسلم اداروں نے آج کہا کہ اس طرح کے بیانات سے ہندو۔مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ۔ اسی تنازعہ پر اپنا موقف واضح کریں۔ شیعہ پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا یعقوب عباس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو یہ اختیار کیا مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کریں لیکن حق رائے دہی کی تنسیخ مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راؤت کا اداریہ مرض کا علاج کرنے کی بجائے مریض کو ہی ختم کردینے کے مترادف ہے۔ مولانا عباس نے کہا کہ اس طرح کے بیانات کے پس پردہ گھناؤنے عزائم کارفرما ہیں چونکہ شیوسینا ، بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی حلیف جماعت وزیراعظم کو اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے ملک تقسیم ہوجائے گا جبکہ دستور نے ہر ایک شہری کو ووٹ کا حق دیا ہے اور اس حق کی تنسیخ کے بارے میں بات کرنا شدید ناانصافی ہوگی اور یہ ہندو۔مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرائے گا ۔ یہ انتہائی بدبختانہ ہے کہ وزیراعظم کی ایک حلیف جماعت اس طرح کے بیانات دے رہی ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا عبدالرشید فرنگی محل نے کہا کہ دستور نے تمام ہندوستانیوں کو رائے دہی کا حق عطا کیا ہے اور صرف مسلمانوں سے یہ حق چھینا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے لفظ ووٹ بینک کو میڈیا کی اختراع قرار دیا ہے اور بتایا کہ انتخابات کے وقت ہر ایک برادری کی ترجیحات بدلتے رہتی ہے ۔ قبل ازیں ہندو برادری نے کانگریس کو ووٹ دیا تھا اور اب بی جے پی کی حمایت کر رہی ہے ۔ اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی پسند بھی تبدیل ہوگئی ہے لیکن اسے ووٹ بینک کی سیاست قرار مناسب نہیں ہے۔ دریں اثناء ممبئی میں اپوز یشن کانگریس اور این سی پی نے شیوسینا ایم پی سنجے راوت کے اس ریمارک کو غیر دستوری قرار دیا جاسکے۔ مسلمانوں کے حق رائے دہی کو منسوخ کردیا جائے اور زعفرانی پارٹی لیڈر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ این سی پی کے ریاستی صدر سنیل تتکرے نے راؤت ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کے دوران مسلمانوں نے برطانوی حکومت کے خلاف اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا لیڈر کا یہ بیان دستور ہند کے اصولوں کے مغائر ہے جو کہ قابل مذمت سے سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اقلیتی امور محمد عارف نسیم خاں نے مطالبہ کیا کہ سنجے راؤت کے خلاف قانون کی تعزیرات ہند کے دعہ 153 (A) کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں راجیہ سبھا کی اہمیت سے محروم کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا فرقہ وارانہ بیان نہ صرف دستور کے خلاف ہے بلکہ سماج ایک طبقہ کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں ۔