شیخ مصطفے الدین قتل کیس

پولیس تحقیقاتی رپورٹ کی عدالت میں پیشکشی ، 70 فوجی سپاہیوں سے پوچھ گچھ
حیدرآباد 8 ڈسمبر ( سیاست نیوز )صدیق نگر میں فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے کمسن طالب علم شیخ مصطفی الدین قتل کیس کی تحقیقات کی رپورٹ کو کمشنر پولیس حیدرآباد نے آج ہائی کورٹ میں پیش کیا ۔ اپنی رپورٹ میں کمشنر پولیس نے بتایا کہ شیخ مصطفی الدین قتل کیس کی تحقیقات مختلف چھ زوایوں سے کی جارہی ہیں جس میں فوجیوں کی جانب سے بدفعلی اور دیگر شبہات کے تحت خصوصی تحقیقاتی ٹیم چھان بین کررہی ہے ۔ہائی کورٹ میں داخل کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب تک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے 70 فوجیوں سے پوچھ تاچھ کی ہے جن میں 23 فوجیوں کو دفتر ڈپٹی کمشنر پولیس ویسٹ زون میں تفتیش کی گئی تھی جن میں لانس نائک بی اپلا راجو شک کے دائرے میں تھا چونکہ اس نے قتل کے واقعہ کے دن مقام واردات پر شراب نوشی کی تھی اور تفتیش کے دوران پولیس عہدیداروں کو مختلف بیانات دیئے تھے ۔ اپلا راجو نے بعدازاں رائفل سے گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ عدالت کو یہ واقف کروایا گیا کہ ملٹری میں اس سلسلہ میں اسپیشل کورٹ آف انکوئری قائم کیا ہے جس میں شیخ مصطفی الدین قتل کی وجوہات اوراپلا راجو کی خودکشی کی وجہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کمشنر پولیس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس کیس میں کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں ہے صرف تکنیکی شواہد کے ذریعہ خاطیوں کا پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس کلیان جیوتی سنگھ گپتا اور جسٹس سنجے کمار پر مشتمل بنچ نے محکمہ دفاع کو اس سلسلہ میں اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ چونکہ یہاں کے ایک مقامی وکیل ایڈوکیٹ غلام ربانی کی جانب سے شیخ مصطفی الدین قتل کیس کے سلسلہ میں درخواست مفاد عامہ دائر کی گئی تھی جس کے تحت ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو بھی اس میں فریق بنایا ۔