شیخ الاسلام حضرت انوار اللہ فاروقی ؒکی خدمات، عظیم سرمایہ

بیدر 13 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا حافظ امام محمد انواراللہ فاروقی فضیلت جنگؒ بانی جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے سرزمین دکن میں علم کی شمع کو ایسا روشن کیاکہ ہزاروں آندھیوں کے باوجود یہ شمع آج بھی روشن ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔ بے شمار مخلوقات میں تین مخلوقات جن میں فرشتے، انسان اور جن کو پیدا کیا۔ انسان اور جنات سے ہدایت بھی ممکن ہے اور کفر و شرک بھی ممکن ہے۔ ایمان کے لئے کوئی عبادت شرط نہیں لیکن عبادت کے لئے ایمان شرط ہے۔ ایک مسلمان کے لئے سب سے زیادہ عزیز ایمان ہے۔ ایمان عقیدہ کا نام ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے تیرہ سالہ مکی زندگی میں ایمان کی تبلیغ کی۔ تمام انبیاء عقیدہ میں سب ایک ہیں۔ انبیاء کے احکام شریعت میں تبدیلیاں ہوتی رہیں لیکن عقیدہ تو ایک ہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نگران جلسہ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے کل شب جامعہ روضۃ البنات بیدر کے زیراہتمام مغل گارڈن فنکشن ہال بیدر میں مرکزی جلسہ جشن شیخ الاسلام کانفرنس و تقسیم اسناد کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا نے کہاکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ جس نے میرے اور میرے صحابہؓ کے طریقہ پر قائم رہا وہی ہدایت یافتہ ہوگا۔ صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ﷺ کی ہر بات پر عمل کرتے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک یہودی سے قرض لئے پھر سرکار دو عالم ﷺ نے اُس یہودی کو قرض ادا کردیا۔ یہودی انکار کرنے لگا کہ آپ نے قرض ادا نہیں کیا اور گواہ کا مطالبہ کیا جس کی گواہی حضرت خذیمہؓ نے دی۔ حضرت خدیمہؓ سے آپ ﷺ نے سوال کیا اے خذیمہؓ نہ تم لیتے وقت تھے اور نہ ادا کرتے وقت تھے پھر تم نے کیسے گواہی دے رہے ہو، میں نے قرض ادا کردیا۔ حضرت خدیمہؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ ایک ہے، کتاب ایک ہے اور آپ کے کہنے پر میں نے جنت و دوزخ کو مان لیا ہے ان سے بڑی بڑی چیزوں کو بغیر دیکھے آپ ﷺ کے کہنے پر تصدیق کرلیا پھر مجھے اس میں کیا تامل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے خذیمہؓ آج سے جس کے حق میں تم گواہی دو گے وہ تمہاری گواہی دو گواہوں کے قائم مقام ہوگی۔ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اُمت میں حضرت خذیمہؓ کو یہ اعزاز حاصل ہے اور قیامت تک یہ اعزاز کسی اور کو حاصل نہیں۔ مولانا نے کہاکہ باطل عقائد صحابہ اور تابعین کے زمانے میں موجود نہیں تھے۔ اس کے بعد کے زمانے میں گمراہ فرقے زور پکڑے، اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب تک عقل کو دین کے تابع رکھے تو ہدایت تھی اور جب دین کو عقل کے تابع کردیا گمراہی بڑھتی رہی۔ اُس کے رد بلیغ کیلئے حضرت شیخ الاسلام علامہ مولانا امام محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگؒ بانی جامعہ نظامیہ نے تصنیف و تالیف کے ذریعہ فطری عقائد و اعمال کی اصلاح فرمائے۔ شیخ الاسلامؒ ہمہ گیر شخصیت ہیں، آپ مفسر بھی ہیں، محدث، صوفی باصفا بھی ہیں اور مجدد وقت بھی تھے۔ بانی جامعہ نظامیہ نے مسلمانوں کو کوئی مال و دولت نہیں دی بلکہ جامعہ نظامیہ قوم کو دیا۔ اُن کے ایمان اور اعمال کی اصلاح کیلئے جو آج بھی بانی جامعہ نظامیہ کے مقاصد پر کام کررہا ہے اور انشاء اللہ انھیں مقاصد کیلئے صبح قیامت تک کام کرتا رہے گا۔ مولانا سید عزیزاللہ قادری شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ نے کہاکہ اللہ رب العالمین نے سب سے پہلے اپنے نور سے نور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو پیدا فرمایا اور اسی نور کا جلوہ ساری کائنات کو روشن و منور کیا ہوا ہے۔ حضرت شیخ الاسلامؒ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت کی روشنی میں دکن تشریف لائے۔ شیخ الاسلام نے جہاں بدعقیدگی کا ردِّ بلیغ کیا وہیں آپ نے اپنی نورانی اور روحانی کتابوں کی دولت سے مالا مال کیا۔ ان کتابوں کو اگر ہم عقیدت سے پڑھتے رہیں گے تو فیض پاتے رہیں گے۔ مولانا سید ضیاء الدین نقشبندی شیخ الفقہ جامعہ و بانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر حیدرآباد نے کہاکہ حضرت مولانا امام انواراللہ فاروقیؒ نے عقائد صحیحہ کا استحکام کیا۔ آپ نے قوم و ملت کی اصلاح او فروغ تعلیم کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں مسلمانوں کے لئے وہ عظیم سرمایہ ہے اور آپ کے قائم کردہ ادارے اُمت کے لئے اثاثہ ہیں۔ جناب سید ذوالفقار ہاشمی سابق رکن اسمبلی نے صدارت کی۔ مولانا عبیداللہ فہیم منتظم جامعہ، سید شاہ نعمت اللہ قادری مؤدب جامعہ نظامیہ، ڈاکٹر شیخ محمد افضل الدین جنیدی المعروف سراج بابا، سید لطیف الدین قادری خسرو صدر قاضی بیدر و ظہیرآباد، سید شاہ ذین العابدین محمد محمدالحسینی متولی خانقاہ خواجہ ابوالفیضؒ، محمد لئیق الدین ایڈوکیٹ سابق رکن اسمبلی، خواجہ ضیاء الحسن جاگیردار شاہ منور چشتی، شیخ مستان شاہ قادری الچشتی افتخاری، سید عزیز اللہ توکلی، شاہ ابراہیم قادری الملتانی، شاہ زین الدین کنج نشین، سید اسد صدر تنظیم کمیٹی ہلی کھیڑ شہ نشین پر موجود تھے۔ محمد فراست علی ایڈوکیٹ اور دیگر ذمہ داروں نے مہمانوں کی شال و گلپوشی کی۔ مسلم الدین انصاری کی قرأت کلام پاک، غلام افروز متعلم جامعہ نظامیہ، محمد اسمعیل طالب علم معہد انوار القرآن، نعت و منقبت سنانے کی سعادت حاصل کی۔ مولانا مصطفی کمال چیرمین ضلع کوپل وقف بورڈ نے استقبالیہ خطاب کیا۔ مولانا مفتی سید سراج الدین نظامی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ دینی و ملی اداروں کے ذمہ داروں نے جلسہ کے وسیع تر انتظامات میں حصہ لیا۔ رات دیر گئے مولانا کی دعا کے بعد جلسہ اختتام کو پہنچا۔