توجہ ہٹا کر سرقہ کرنے والی ٹولیاں بھی سرگرم ، شہریوں کو چوکنا رہنے کی ضرورت
حیدرآباد 10 جولائی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے بازاروں پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں جیب کترے،سارق، رہزن توجہ ہٹا کر سرقہ کرنے والی ٹولیاں مصروف مقامات پر نظریں مرکوز کررہی ہیں جو عیدین کی خریداری کرنے والوں کیلئے خطرے سے کم نہیں چونکہ شہر حیدرآباد میں اس مرتبہ بھی دونوں تہوار رمضان المبارک اور بونال ایک ساتھ آرہے ہیں سارق اور رہزنوں کی سرگرم ٹولیاں اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں۔ دونوں تہواروں کے پرامن انعقاد کیلئے پولیس اپنی ساری توجہ امن و ضبط کی برقراری و بحالی امن پر مرکوز کئے ہوئے ہے اور سارق دوسری طرف اس بات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں ۔ ان دنوں شہر کے مصروف ترین بازار اور تجارتی مقامات پر کئی اجنبی افراد کو دیکھا گیا۔ پولیس کے معتبر ذرائع نے بتایا کہ بیرون ریاستوں سے ٹولیاں یہاں شہر میں سرگرم رہتی ہیں اور وہ ایسے موقعوں پر شہر آتی ہیں اور اپنا کام تکمیل کرنے کے بعد واپس چلی جاتی ہیں جن میںمہاراشٹرا ٹامل ناڈو ،کرناٹک بیدر کی ٹولیاں سرفہرست ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بازار سے دوسرے بازار جاتے وقت خریدار کی تفصیلات اور ان کے حلیے و دیگر معلومات کا تبادلہ کردیا جاتا ہے۔ زیادہ تر سارقین کی یہ ٹولیاں ٹریفک سگنلس پر اپنے شکار کو بھانپ لیتے ہیں اور دوسرے علاقے میں سرگرم ٹولی کو آگاہ کیا جاتا ہے۔ اکثر ان بد نام زمانہ ٹولیوں کے نشانہ پر زیورات کی دکانیں، بڑے ملبوسات کے شورومس اور شاپنگ مالس رہتے ہیں اور چھوٹے مصروف ترین اور انتہائی مصروف ترین بازاروں میں یہ ٹولیاں رہزنی ،جیب کتری کی وارداتیں انجام دیتے ہیں تاہم کسی مشتبہ شہری یا پھر مفرور ملزم کی تلاش ہوتو پہلے پہل اسے گرفتار کرنے اور اس کی سازش کو ناکام بنانے کا دعوی کرتے ہوئے پولیس کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے لیکن ان سارقوں کے گلے تک آخر پولیس کے ہاتھ کیوں نہیں پہونچتے یا تو پولیس خود دلچسپی نہیں لیتی کہ وہ عوام کے سنگین مسئلہ کو حل کرے یا پھر جیسا کہ پولیس پر الزامات پائے جاتے ہیں کہ ان سارقوں سے ان کا کوئی ساز باز ہے ۔ آخر یہ ٹولیاں شہر میں کس مقام پر رہتی ہیں ۔ انہیں پناہ کون دیتا ہے اور مسرقہ سامان کو یہ کس طرح منتقل کرتے ہیں اور شہر آتے بھی ہیں اور اپنا کام کر کے چلے بھی جاتے ہیں تو اس دوران پولیس کیا کرتی ہے پولیس کو چاہئے کہ وہ بازاروں پر اپنی چوکسی کو سخت کرئے اور عید و تہوار کے عوامی خوشی کے ماحول کو سارقوں اور بد نام زمانہ افراد سماج دشمن عناصر کے ہاتھوں لُٹنے سے بچائیں۔