شہر بیدر میں غیرمجاز تعمیرات

بیدر۔ 12 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تاریخی شہر بیدر جو قلعہ کی فصیلوں کے اندر بسا ہوا ہے اور یہاں کئی سال سے عوام نے اپنے مکانات کی تعمیر کی ، قانون میں بتایا گیا ہے کہ فصیل کے اطراف 300 میٹر تک جو بھی تعمیراتی سرگرمیاں ہوں گی، وہ غیرقانونی قرار دی جائے گی چنانچہ اس سے قبل بھی اس طرح کی محکمہ ہذا کی جانب سے کارستانی ہوئی تھی تاہم اس کے بعد یہ معاملہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا تھا لیکن اب حالیہ دنوں میں شہر کے چند افراد کو محکمہ نے نوٹس جاری کرکے بتایا کہ ان کے مکانات کی تعمیر فصیل سے متصل ہے اور قانون کے مطابق فصیل سے 300 میٹر تک کوئی بھی تعمیراتی سرگرمی غیرقانونی تصور کی جائے گی۔ جاری کردہ نوٹس کے مطابق اندرون 60 یوم مکانات کو منہدم کرنا ہوگا، بصورت دیگر دو سال کی سزا اور ایک لاکھ روپئے جرمانہ تک کی بات بتائی گئی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ذرائع نے بتایا کہ 2010ء میں تحفظ آثار قدیمہ کے لئے جو نئے قانون بنائے گئے تھے، اس میں ریاستوں کے اضلاع کے دائرے حدود کو سامنے نہیں رکھا گیا تھا بلکہ بڑے شہروں دہلی، آگرہ کے تاریخی مقامات کو دیکھتے ہوئے اس قانون کو مرتب کیا گیا جس کے دائرے کار میں ملک کے ایسے علاقے بھی آگئے جو پسماندہ کہلاتے ہیں۔ اس میں بیدر شہر بھی آچکا ہے

اور اب msr act کے تحت تاریخی مقامات کے اطراف 300 میٹر تک کسی بھی نئی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی چنانچہ اس معاملے میں میونسپل اور بی ڈی اے کو بھی ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اس بارے میں توجہ دیں تاکہ کوئی نئی تعمیر نہ ہو۔ محکمہ ہذا کا کہنا ہے کہ ان کی مجبوری یہ ہے کہ تعمیراتی اُمور کے لئے قانون کے مطابق عوام کام نہیں کرتے اور بعد میں پریشانیوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ قانون کے مطابق تعمیر کے لئے محکمہ سے noc حاصل کرنا ہوتا ہے اور اس سے قبل محکمہ کے افراد مقام تعمیر کا معائنہ کرکے اپنی رپورٹ دھاڑواڑ کو روانہ کرتے ہیں جس کے بعد ہی تعمیراتی کام ہوسکتا ہے لیکن شہر میں کئی ایسی عمارتوں کی تعمیر ہوچکی ہے جو مذکورہ قانون کو بالائے طاق رکھ کر کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں محکمہ نے شہر کے 200 افراد کو نوٹس جاری کی ہے اور بتایا گیا ہے کہ برید شاہی محمود گاواں مدرسہ قلعہ ، اشٹور، چوکھنڈی اور دیگر ایسے تاریخی مقامات ہیں جن کے اطراف نئی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، چونکہ شہر بیدر کو ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مذکورہ قانون پر عمل آوری کے لئے اس طرح کی نوٹس جاری کی جاتی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ذرائع نے مزید بتایا کہ ان ہی لوگوں کو نوٹس جاری کی گئی ہے جو تاریخی مقامات کے مقررہ حدود میں پختہ تعمیرات کررہے ہیں۔