کریم نگر۔/4مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست کی تقسیم کے بعد دو علحدہ تلگو ریاستیں اپنے اپنے مسائل کی یکسوئی کیلئے آپسی مشاورت کے ساتھ خو ش اسلوبی سے یکسوئی کیلئے آگے قدم بڑھائیں گے۔ تلگودیشم سربراہ و چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے یہ پیغام دیا۔ مستقر کریم نگر امبیڈکر اسٹیڈیم میں منعقدہ ضلعی قائدین و کارکنوں کے جلسوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نئی ریاست کے قیام کے بعد تلنگانہ کو درپیش مختلف مسائل پر بات چیت کے لئے میں ہمیشہ تیار ہوں،اسی طرح تلنگانہ کے چیف منسٹر کو بھی تیار رہنا ہوگا۔ قدرتی وسائل کی تقسیم و دیگر مسائل کے لئے شکوہ و شکایت کے بجائے کچھ لو اور کچھ دو کے جذبہ کے تحت ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیئے۔ جغرافیائی یا تاریخی حقائق کچھ بھی ہوں علحدگی ہوچکی ہے لیکن حقیقت میں دونوں ہی تلنگانہ کے عوام تلگو بولنے والے ہیں اور مل جل کر رہتے ہیں۔ دونوں کی ترقی ہوگی۔ درحقیقت تلگودیشم سے ہی تلنگانہ کی ترقی ہوئی ہے۔ اس کی زندہ مثال تلنگانہ میں قائم کئی ایک صنعتوں کا جال ہے، ہزاروں افراد کو ملازمت اور روزگار کی فراہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کی پہچان تلگودیشم پارٹی کی دین ہے اور یہاں کے عوام کی دلی خواہش کا احترام کرتے ہوئے دو مرتبہ مرکز کو تحریری طور پر واقف کروایا گیا لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ سیاسی مفادات کے تحت مجھ پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں جبکہ میں نے ریاست کی تقسیم سے پیش آنے والی مشکلات سے نمٹنے کیلئے تیقن دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پانی کی تقسیم، فیس ریمبرسمنٹ اور دیگر مسائل کیلئے مجھ پر اور تلگودیشم قائدین کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے
جو مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ فیس ریمبرسمنٹ، برقی، آبپاشی کے تعلق سے میں کسی بھی وقت بات چیت کیلئے تیار ہوں۔ چندرا بابو نائیڈو نے یہ ضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ اس تعلق سے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ ناگرجنا ساگر سے پانی کے سلسلہ میں بھی جو تنازعہ پیدا ہوا تھا میں نے پہل کرتے ہوئے کے سی آر سے بات کی اور گورنر کی موجودگی میں مسئلہ کو حل کرلیا۔انہوں نے کہا کہ برقی کے سلسلہ میں کے سی آر مجھ سے کسی بھی وقت بات کرسکتے ہیں۔ تلنگانہ میں برسر اقتدار قائدین کے ڈرانے اور دھمکانے کے باوجود ہمارے کارکن آج بھی تلگودیشم کے ساتھ ہیں میں کارکنوں کے اس جذبہ کو نہیں بھولوں گا ہمیشہ یاد رکھوں گا۔انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ انہیں ڈرنے اور خوف اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہارے ساتھ ہوں۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ آج میں اس جلسہ میں یہی بات کہنے اور بھروسہ دلانے کیلئے آیا ہوں۔ آج اتنی بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت نے میرا حوصلہ بڑھادیا ہے، کارکنوں کا یہی جذبہ رہا تو 2019 میں تلنگانہ میں بھی ہمیں بھاری اکثریت سے کامیابی ملے گی اور اقتدار ہمارا ہوگا۔ قبل ازیں تلگودیشم کے قائدین نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد سے اقتدار اعلیٰ طبقات میں تھا تلگودیشم کے قیام کے بعد سے سیاست جھوپڑ پٹی میں آگئی
اور عام آدمی کو سیاسی شعبہ میں لایا گیا اور پچھڑے طبقات کو اقتدار میں لایا گیا۔ تلگودیشم تلنگانہ ریاستی صدر ایل رمنا نے یہ بات کہی۔ ریاستی سیاست میں تلگودیشم نے انقلاب پیدا کیا ہے۔ سماجی شعور اور عوام کا درد رکھنے والوں کو اسمبلی میں بھیجنے کیلئے تلگودیشم نے ہی راستہ ہموار کیا۔ ایرا بلی دیاکر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کے سی آر کے غلط فیصلوں کی وجہ سے گوناگوں پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں کیونکہ کے سی آر حکومت ذاتی مفادات کے لئے کام کررہی ہے جبکہ چندرا بابو نائیڈو عوام کی حکومت کے جذبہ سے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشن کاکتیہ کے نام پر بدعنوانیاں کی جارہی ہیں اور حکومت کے اثاثہ جات کو برباد کیا جارہا ہے اور تلنگانہ بدعنوانیوں میں غرق ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو راجیو سواگرہا کے پاس عارضی ہیلی پیاڈ پر 1:30بجے پہنچے۔ قائدین ریونت ریڈی، ای پدی ریڈی، ایم نرسمہلو، دیاکر راؤ، ایل رما، وجئے رمنا راؤ، مانا کنڈور اسمبلی حلقہ انچارج کوم پلی ستیہ نارائنا نے چندرا بابو نائیڈو کا استقبال کیا۔