شمال مغربی پاکستان میں دھماکے اور خودکش بمبارحملہ، 12 ہلاک

پشاور ۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) شمال مغربی پاکستان میں آج ایک خودکش بمبار حملہ اور دیگر دھماکوں کے نتیجہ میں کم سے کم 12 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 3 بچے اور ایک 14 سالہ طالب علم بھی شامل ہیں، دیگر درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ شورش زدہ صوبہ خیبرپختون خواہ کے ہائی اسکول کے باب الداخلہ پر خودکش بمبار کو روکنے کی انتہائی دلیرانہ کوشش میں ایک نویں جماعت کے طالب علم اعتزاز خان نے اپنی جان کی قربانی دیتے ہوئے کئی طلبہ کی زندگیوں کو بچا لیا۔ یہ خودکش بمبار ضلع ہنگو میں ابراہیم زئی ہائی اسکول کے روبرو ایک کوچ سے اترا اور اسکول کی سمت بڑھنے لگا جہاں بہادر طالب علم اعتزاز خان نے شبہ کے طور پر اس کو پہچان لیا اور روکنے کیلئے سخت مزاحمت کی۔ خودکش بمبار نے اس وقت دھماکہ کردیا جب اعتزاز نے باب الداخلہ اس کو کامیابی کے ساتھ روک دیا۔

ضلع پولیس سربراہ افتخار احمد نے کہا کہ اعتزاز بھی برسرموقع جاں بحق ہوگیا۔ عینی شاہدین نے کہا کہ اگر یہ بمبار اسکول کے اندر خود کو اڑا لیتا تو مہلوکین اور زخمیوں کی تعداد کئی زیادہ ہوسکتی تھی۔ کسی بھی گروپ نے تاحال اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ افغان سرحد سے متصل اس دورافتادہ پاکستانی علاقہ دار جماعت اکاخیل میں چند افراد کا ایک گروپ ایک حجرہ میں جمع ہوا تھا کہ اس مقام پر مورٹار شیل دھماکہ کے نتیجہ میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور دیگر 9 زخمی ہوگئے۔ علاقہ بارہ کے سیاسی تحصیلدار ارشد خان نے کہا کہ مورٹار شیل دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک شخص نے وہاں پڑے ہوئے اس شیل کو ہٹانے کی کوشش کی تھی۔