شعروادب کے ارتقاء میں دکن کے سلاطین کا غیرمعمولی رول

کڑپہ ۔ 19 ۔ فبروری ( ذریعہ ڈاک ) انجمن ترقی اردو ضلعی شاخ کڑپہ ( اے پی ) کی جانب سے بمقام ہدا ہائی اسکول ، چاند پھراگنبد ، دفتر انجمن ترقی اردو میں ایک اجلاس منعقد ہوا ۔ جس کی صدارت مولانا مولوی سید شاہ مصطفی حسین بخاری صدر انجمن ترقی اردو ضلعی شاخ کڑپہ ( اے پی ) نے کی اور کہا کہ جنوبی ہند ہر زمانے میں اردو زبان اور شعر و ادب کا مرکز و محور رہا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اردو کو ادبی حیثیت دکن میں ملی اور اردو شعر و ادب کے ارتقا و فروغ میں دکن کے سلاطین نے غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے ۔ نیز یہاں کے ادیبوں اور شاعروں نے اپنے خون جگر سے اس باغ کو سینچا ہے ۔ زمانہ قدیم کی ان ادبی روایات کے سلسلہ کو آگے بڑھانا اپنا نصب العین سمجھ کر جنوبی ہند کے قلم کاروں نے اپنے ادبی سفر کو ہمیشہ جاری و ساری رکھا اور اس معاملہ میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ جس کے نتیجہ میں جنوبی ہند میں اردو شعر و ادب کا گراں قدر سرمایہ محفوظ ہوگیا ۔ جناب سید ہدایت اللہ معتمد عمومی انجمن ترقی اردو ضلعی شاخ کڑپہ نے کہا کہ ادب چونکہ سماج کا آئینہ ہوتا ہے اس لئے شعر و ادب میں رونما ہونے والے تغیرات تہذیب اور زندگی کے عکاس ہوتے ہیں جو دراصل ادب کو زندہ رکھتے ہیں اور اس کی تازگی و شگفتگی کے ضامن ہوتے ہیں ۔ ادب کو اگر ایک مثلث قرار دیا جائے تو اس کی تشکیل تحقیق ، تنقید اور تخلیق سے ہوتی ہے ۔ دنیا کے دیگر زبانوں کے ادب کی طرح اردو ادب میں بھی تحقیق ، تنقید اور تخلیق کا گراں قدر سرمایہ موجود ہے اور اس میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ جناب سید شکیل احمد شکیل ، شریک معتمد ، انجمن ترقی اردو ضلعی شاخ کڑپہ نے کہا کہ کڑپہ میں اردو زبان و ادب کے ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے اردو زبان کی ترقی اور شعر و ادب کی ترقی کیلئے انجمن ترقی اردو ضلعی شاخ کڑپہ کی جانب سے 21 اور 22 مارچ کو دو روزہ سمینار بعنوان ’’ جنوبی ہند کے جواں فکر قلم کار ‘‘ منعقد کیا جارہا ہے ۔ جس میں شعراء ادبا: محقق تنقید نگاروں کو مدعو کیا جارہا ہے ۔ اس اجلاس میں رحمت اللہ ، ارشاد احمد ، عبدالکلام ، یونس طیب ، عبدالواحد وغیرہ شریک رہے ۔