بنگلور۔/16اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس جنرل سکریٹری ڈگ وجے سنگھ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ششی تھرور جنہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی ستائش کے بعد زبردست تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ ا تھا، پارٹی سے تعلق رکھنے والے آج بھی ان پر اتنا ہی اعتماد کرتے ہیں جتنا پہلے کرتے تھے۔ ڈگ وجے سنگھ نے کہا کہ ششی تھرور آج بھی کانگریس پارٹی کے رکن ہیں۔ صرف ایک تبدیلی رونما ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ انہیں پارٹی کے ترجمانوں کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ بس اتنا کہنا ہی کافی ہے۔ مجموعی طور پر ششی تھرور آج بھی اعلیٰ سطحی اعتماد کے حامل لیڈر ہیں۔ یاد رہے کہ کانگریس نے ششی تھرور کو پارٹی کے ترجمانوں کی فہرست سے خارج کردیا جسے کیرالا کے ایم پی نے کانگریس کے وفادار ورکر کی طرح قبول کرلیا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ انہیں اپنی صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔
ڈگ وجے سنگھ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ششی تھرور ایک ایم پی کے علاوہ جانے مانے رائٹر اور سفات کار بھی رہ چکے ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ میں بھی اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ ڈگ وجے سنگھ سے جب ہریانہ اور مہاراشٹرا میں اسمبلی انتخابات کے لئے اگزٹ پولس میں کانگریس کی شکست بتائے جانے کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ آپ کو 19اکٹوبر کے روز پتہ چل جائے گا، اگزٹ پولس پر میرا ایقان نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ڈگ وجے سنگھ یہاں ایشین عرب چیمبر آف کامرس کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لائے تھے جس کا افتتاح انہوں نے انجام دیا۔ بعد ازاں انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا۔ مابعد انتخابات سیاسی اتحاد کے بارے میں یہ پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سیاست میں نظریات اور اصولوں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے جبکہ سیاستدانوں کی خواہشات اور شخصیت پرستی نے ’اگلی نشست‘ سنبھال لی ہے۔اسی لئے ہمارے درمیان بحث و تکرار ہوئی ہے کہ کون وزیر اعظم ہوگا، کون وزیر اعلیٰ ہوگا لیکن اصول و نظریات کہاں ہیں؟