محکمہ اقلیتی بہبود سے 50 لاکھ کی منظوری، ریاستی وزیر قمر الاسلام کا خطاب
شاہ آباد /8 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شاہ آباد میں کالی مسجد سے متصل ’’شادی محل‘‘ کے تعمیری کام کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ایک جلسہ سے مخاطب کرتے ہوئے جناب قمر الاسلام کابینی وزیر برائے بلدی نظم و نسق اقلیتی بہبود، پبلک انٹر پرائزس، وقف و ضلع نگران کار وزیر نے کہا کہ وزیر اعلی سدرامیا کے ایک سالہ دور اقتدار میں کرناٹک کے عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے، تقریباً 60 فیصد وعدے پورے گئے۔ انتخابی منشور میں کل 160 وعدے کئے گئے تھے، جن میں سے 90 وعدوں پر عمل آوری ہوچکی ہے، ماباقی 70 وعدوں پر بڑی مستعدی سے کام ہو رہا ہے۔ خاص طور سے اقلیتوں کے تعلق سے انھوں نے تفصیلی طورپر اپنی تقریر میں ذکر کیا کہ ان کی کاوشوں سے اقلیتی طبقات کے سارے تجارتی و تعلیمی قرضہ جات کو معاف کیا گیا۔ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ساری ریاست میں ایک لاکھ بیس ہزار مکانات فراہم کئے گئے۔ اس سال سے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے غریب طلبہ جن کا سی ای ٹی سیلکشن میڈیکل اور انجینئرنگ کورس کے لئے ہوگا، انھیں اریو یوجنا کے تحت پچاس ہزار روپئے سیلکشن لیٹر کے ساتھ ہی دیئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں اقلیتی غریب لڑکیوں کی شادی کے لئے ’’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘‘ کی بنیاد پر 50 ہزار روپئے کی امداد دینے والی ریاست سارے ملک میں پہلی بن گئی ہے۔ اس اسکیم کا بجٹ پہلے صرف 5 کروڑ روپئے تھا، اب اس کو بڑھاکر 20 کروڑ کیا گیا ہے۔ شاہ آباد کے اس شادی محل کے لئے جب محمد فضل پٹیل اور محمد عبید اللہ میرے پاس آئے تو پرانے چہرے یاد آگئے۔ فائل پر دستخط کرنے کے لئے مجھے کچھ لمحات کے لئے بھی سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اس شادی محل کی تعمیر کے لئے 50 لاکھ کی اعانت مائناریٹی ویلفیر محکمہ کے ذریعہ میں دیا ہوں۔ اگر یہ رقم تعمیری کام کے لئے پوری نہیں ہوتی ہے تو میں وقف کونسل کے ذریعہ 25 لاکھ مزید قرض سروس چارج پر منظور کروں گا۔ یہ وعدہ انھوں نے کیا کہ مقررہ وقت میں ساری ریاست کے اوقافی جائدادوں کا سروے کرایا جائے گا اور وزیر اوقاف کی حیثیت سے اوقافی جائدادوں کا تحفظ اور اس کی آمدنی کو بڑھائیں گے۔ انھوں نے کمیٹی کے ارکان اور عہدہ داروں کو مبارکباد پیش کی اور خاص طورپر محمد علی خاں جمعدار کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے یہ تیقن دیا کہ جلد از جلد شاہی محل کا کام مکمل ہو جائے گا اور بلالحاظ مذہب و ملت کم اخراجات میں یہاں شادیوں کی تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ مسٹر سری گروناتھ سابق وزیر محنت حکومت کرناٹک نے اپنے محتص خطاب میں کمیٹی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے جناب قمر الاسلام کی ستائش کی اور کمیٹی کے ارکان کی شال پوشی و گل پوشی کی۔ جناب محمد عبید اللہ چیرمین حیدرآباد کرناٹک مسلم فورم نے خطبہ استقبالیہ پرھا۔ جناب محمد حنیف باغبان نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ ہزاروں کی تعداد میں سامعین جلسہ گاہ میں موجود تھے۔ شہ نشین پر دیگر مہمانوں میں جناب محبوب پاشاہ ضلع آفیسر محکمہ اقلیتی بہبود ضلع گلبرگہ، جناب اسد علی انصاری چیرمین ضلع وقف مشاورتی کمیٹی گلبرگہ شامل تھے۔ جناب صابر شاہ آبادی نے نعت شریف پیش کی۔ اس موقع پر جناب محمد اصغر چلبل نائب صدر سیرت کمیٹی گلبرگہ، ڈاکٹر عبد الرشید مرچنٹ، مسٹر سبھاش پوار، محمد فضل پٹیل کنوینر حیدرآباد کرناٹک مسلم فورم ضلع گلبرگہ، شری سدھاکر مالی پاٹل، شری سائبنا رکن بلدیہ، شری سنتوش اور دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا قمر الدین کی تلاوت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ مسرز عنایت خاں جمعدار، سید ذبیح اللہ حسینی، محمد علی خاں جمعدار، ساجد گتہ دار، محمود میاں، محمد قاسم انعامدار، محمد آصف، واجد، محمد واحد، محمد ندیم انعامدار، عبد الرحمن خاں جمعدار، محمد حاجی کریم، لعل احمد اور محمود سوداگر نے مہمانوں کی گل پوشی و شال پوشی کی۔ محمد علی خاں جمعدار کے شکریہ پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔