کراچی۔ 22؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ برق رفتار بیٹنگ کی وجہ ہمیشہ خبروں میں رہنے والے پاکستانی آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے ورلڈ کپ کے بعد ونڈے کرکٹ سے سبکدوش ہونے کا اعلان کردیا ہے، تاہم وہ 2016ء کے ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ عروج پر کرکٹ سے کنارہ کش ہوجاؤں، یہ خواہش آج پوری ہوگئی ہے۔ کپتانی کے تنازعہ سے دلبرداشتہ ہوکر سبکدوش نہیں ہو رہا ہوں۔ جارحانہ بیٹنگ اور دھواں دھار انداز میں بات چیت کرنے والے شاہد آفریدی نے مقامی ہوٹل میں پُرہجوم پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ میرے گھر والوں اور میری بھی خواہش تھی کہ میں مزید کھیلوں۔ شائقین بھی مجھے دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن میرے خیال میں سبکدوش کا یہ موزوں وقت ہے اور ملک میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ گھریلو کرکٹ میں حارث سہیل مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔ وقار یونس اور مشتاق احمد نے اس پر محنت کی ہے، اس میں اچھا آل راؤنڈر بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ احمد شہزاد سے بولنگ کے طویل سیشن کرائے جائیں تو وہ بھی آل راونڈر بن سکتا ہے۔ یہ دونوں میری جگہ لے سکتے ہیں۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ سینئرس کو ورلڈ کپ کی اہمیت کا پتہ ہے۔ آخری ورلڈ کپ میں سینئرس کو محنت کرنی ہوگی۔ ٹیم انتظامیہ نے اچھا ماحول بنایا ہوا ہے۔ کمزوریوں کو دُور کرکے اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ 2011ء میں کسی نے توقع نہیں کی تھی، لیکن ہم نے سیمی فائنل کھیلا۔ ہم نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف بہتر کرکٹ کھیلی ہے۔ سیریز جیت کر اچھا اختتام کرنا چاہئے تھا۔ بیٹنگ میں پارٹنرشپ کی اہمیت ہوتی ہے۔ ہمیں فیلڈنگ پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ آج کل85 فیصد میچ فیلڈنگ سے جیتے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ونڈے کرکٹ میں 8,000 اور 400 وکٹس کا ریکارڈ پورا کرنا چاہتا ہوں۔ میں اتنا بُرا بیٹسمین بھی نہیں ہوں کہ سات، آٹھ میچوں میں یہ ریکارڈ نہ بناسکوں۔ آفریدی نے کہا کہ عمران خان اور وسیم اکرم وغیرہ بھی سمجھتے تھے کہ ہمارے جانے سے ٹیم پر فرق پڑے گا۔ کسی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شاہد آفریدی اب تک ونڈے تاریخ میں ریکارڈ سب سے زیادہ 342 چھکے لگا چکے ہیں جب کہ گزشتہ ورلڈ کپ میں انھوں نے سب سے زیادہ 21 وکٹیں حاصل کیں۔ یکم مارچ 1980ء کو خیبر ایجنسی میں پیدا ہونے والے شاہد خان آفریدی نے 2 اکتوبر 1996ء کو پاکستان کی جانب سے پہلا ایک روزہ میچ نیروبی میں کینیا کے خلاف کھیلا اور اپنے دوسرے ہی میچ میں سری لنکا کے خلاف 37 گیندوں پر تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بنایا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اپنی جارحانہ بیٹنگ کے باعث ’بوم بوم‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ آفریدی اب تک 389 ایک روزہ میچوں میں 7,870 رنز بنانے کے ساتھ 391 وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہد آفریدی 27 ٹسٹ اور 77 ٹوئنٹی20 میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔