بلڈانہ 18 اگست (فیاکس )حال ہی میںلاکھن واڑہ(ضلع بلڈانہ) کے سرکاری استپال کے وسیع وعریض ہال میں ڈاکٹر محبوب راہی کی اکتالیسویں تصنیف ً پیکر جہد وعمل۔ غنی غازی ً کی کتاب کا رسم اجراء مقامی رکن اسمبلی رانا دلیپ کمار ساننداکے دست مبارک سے انجام پائی۔ اس موقعہ پر دلیپ کمار سانندا نے اپنی تقریر میں کہا کہ علمی ، ادبی،سیاسی، سماجی اور ادبی حلقوں کی متحرک شخصیت غنی غازی کی زندگی کے نشیب وفراز کی داستان لکھ کر ڈاکٹر محبوب راہی نے کھام گاؤں اسمبلی حلقہ کے نوجوانون کو مایوسی کے اندھیروں سے نکا ل کر محنت و مشقت سے اپنی زندگی سنوار نے کا راستہ دکھا یا ہے۔ڈاکٹر محبوب راہی نے اس کتاب کی غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئی نسلوں کیلئے غنی غازی کی زندگی ایک مشعل ِراہ ثابت ہوئی کہ انھوںپُرخار راہوں سے گز کر سماجی خدمت کو اپنا وطرہ بنایا اور اپناجہاں آپ پیدا کیاہے۔غنی غازی نے اپنے استاد ڈاکٹر محبوب راہی کا شکریہ ادا کیا کہ ً میری زندگی کا جسقدر باریک بینی سے ڈاکٹر صاحب نے مشاہدہ اور تجزیہ کیا ہے اتنی باریکی سے مجھے بھی اپنی زندگی کو پرکھنے کا موقعہ نہیں ملا۔انھوں نے کہا کہ ً میں نے زندگی میں کبھی کچھ بنے کی خواہش نہیں کی ہاں البتہ یہ تمنا ضرور ہے کہ میں کچھ کر دکھاؤں اور قوم و ملت کی خدمت کرتا رہوں ۔ڈاکٹر غفران اللہ خان نے غنی غازی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ پیکر جہد وعمل ۔ غنی غازی ً یہ کتاب اردو ادب کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کہ یہ پہلی کتاب ہے جو کسی استاد نے اپنے شاگرد کی حوصلہ افزائی اور شاباشی کے لئے لکھی ہے ورنہ اس سے قبل شاگردوں نے ہی اپنے اساتذہ کی زندگی پر لکھا ہے ۔رسمِ اجراء کی اس تقریب کی صدر ضلع پریشد بلڈانہ کی صدر محترمہورشاتائی ونارے تھیں جب کہ مہمان خصوصی کھام گاؤں حلقہ کے رکن اسمبلی رانا دلیپ کمار سانندااور مہمانانِ اعزازی میں ضلع پریشد کے ممبران شیرو بھاؤ دھوٹے ، سُریش بھاؤتومر ، پنچایت سمیتی کھام گاؤں کے سبھا پتی ستیش چوان ، کرشی اتپن بازار سمیتی کے صدر پنجاب راؤ دیشمکھ، سریش ونارے ، پنچایت سمیتی کے ممبر ان سجاّد اللہ خان ، چیتن پاٹل کے علاوہ آس پاس کے گاؤںکے ہزاروں افراد نیز لاکھن واڑہ کے معزز حضرات نے شرکت کرکے ڈاکٹر محبوب راہی اور غنی غازی کومبارکباد پیش کی۔