بیروت ۔ 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) صدر شام بشارالاسد کے آبائی صوبہ میں گھمسان کی لڑائی کے دوران زائد از 50 سرکاری فوج کے ارکان اور جنگجو ہلاک ہوئے۔ اس علاقہ میں نگرانی کرنے والے گروپ نے کہا کہ سرکاری فوج نے القاعدہ سے وابستہ انتہاء پسندوں کے ساتھ گھمسان کی لڑائی کی۔ شمال مغربی صوبہ ٹکاکیہ میں مسلح اسلام پسند گروپوں کی حمایت میں لڑنے والے القاعدہ کے انتہاء پسندوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ انسانی حقوق کے شامی نگرانکار نے کہا کہ یہ لڑائی کل اس وقت بھڑک اٹھی جب صوبہ میں باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقہ پر حملے کئے گئے۔ النصرا محاذ سے وابستہ القاعدہ کے ارکان نے مورچہ سنبھالتے ہوئے سرکاری افواج کا مقابلہ کیا۔ اس موضع میں گذشتہ ہفتہ ہی گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی جہاں بشارالاسد کی فورس کو شکست ہوئی تھی اور یہاں پر باغیوں کا قبضہ تھا۔ النصرا نے اس موضع کے کئی حصوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا۔ جبل الاخرط کے پہاڑی ضلع میں باغیوں کا اصل گڑھ ہے۔ اس پہاڑی کا نام اگرچہ کہ کردش کی پہاڑی قرار دیا جاتا ہے لیکن یہاں پر سنی عربوں کی اکثریتی آبادی رہتی ہے۔ نام کی تبدیلی کے باوجود اس موضع میں 2011ء میں بشارالاسد حکومت کے خلاف احتجاج بھڑک اٹھا تھا۔