شام سے امریکی فوج کی واپسی عراق کیلئے خطرہ:عراقی وزیراعظم

بغداد۔ 25دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک شام سے امریکی فوج کی واپسی کا عراق پر منفی اثر پڑے گا۔مسٹر مہدی نے اپنی ہفتہ وار کابینہ کی میٹنگ کے بعد پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘ہم نے شام سے فوجیوں کو واپس بلانے کے امریکی فیصلے پر تبادلہ خیال کیا ہے کیونکہ عراق پر اس کا منفی اثر پڑے گا‘‘۔عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘اگر امریکی فوج کی واپسی سے شام میں سیکورٹی سے متعلق خطرہ پیدا ہواتا ہے ، تو بڑی تعداد میں تارکین وطن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جائیں گے ، جس کا سب سے پہلے اثرعراق پر پڑے ہوگا۔جنگجوؤں شام چھوڑ کر عراق میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے جو ہمارے ملک کے لئے خطرناک ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ عراق پر اس کا منفی اثر نہ پڑے اس لئے اسے ابھی سے ہی محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ مسٹر مہدی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ امریکہ نے شام سے واپسی کرنے والے امریکی فوجیوں کو عراق میں ٹھہرنے کی درخواست کی ہے ۔عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شام سے امریکی فوج کی واپسی کے فیصلے کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا تھا۔ مسٹر پومپیو نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق کو ہر ممکن امریکی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔اس سے قبل پیر کو امریکہ کے سبکدوش ہونے والے وزیر دفاع جیمز میٹس نے شام سے امریکی فوجیوں کی واپسی والے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے ۔حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف جاری جنگ میں فتح کا دعوی کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا ہے ۔واضح رہے کہ شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف جاری جنگ میں سال 2015 سے ہی دو ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں۔ یہ امریکی فوجی عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی قیادت والی اتحادی افواج کا حصہ ہیں۔