دمشق ، 22 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) شام کے شہر حماہ میں دولت اسلامیہ (داعش) کے سکیورٹی اہلکاروں نے ایک عورت کو اس کے باپ کے سامنے غیر مرد کے ساتھ جنسی تعلقات کے جرم میں سنگسار کر دیا۔ داعش نے اس عورت کو سنگسار کرنے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے اور یہ ویڈیو برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کو ملی ہے۔ اس ویڈیو میں عورت اپنے باپ سے معافی کی التجا کر رہی ہے لیکن باپ اس کو رسی سے باندھ کر سنگسار کرنے کیلئے داعش کے جنگجوؤں کے سامنے لا رہا ہے۔ ویڈیو میں داعش کے دو جنگجو اس عورت کے باپ کے قریب آتے ہیں اور اس کو کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کو معاف کر دے کیونکہ وہ ابھی زندگی سے کنارہ کش ہونے اور اللہ سے ملنے والی ہے۔ وہ عورت بار بار معاف کرنے کی التجا کر رہی ہے۔ ویڈیو میں داعش کا ایک جنگجو عورت کے سامنے یہ وضاحت کرتا ہے کہ اس کو کیوں یہ سنگین سزا دی جا رہی ہے۔
اس نے عورت کو مخاطب ہو کر کہا: ’’اس کو زنا جیسے جرم میں ملوث نہ ہوکردوسری عورتوں کیلئے ایک مثال بننا چاہیے تھا، تجھے یہ سزا غلط حرکت کی وجہ سے دی جا رہی ہے۔ تجھے کسی نے اس غلط کام کیلئے مجبور نہیں کیا تھا۔ اس لئے اب تجھے اللہ کا حکم ماننا ہو گا اور اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہو گا۔ اسلام اللہ کے سامنے جھکنے کا نام ہے‘‘۔ اس جنگجو نے پھر اس سے پوچھا کہ ’’کیا تجھے اللہ کا فیصلہ منظور ہے ‘‘۔ اس کے جواب میں وہ عورت بے دلی سے ہاں کہہ رہی ہے۔ اس کے بعد اس کا والد اس کو ایک رسی سے باندھ دیتا ہے اور اس کو ایک گڑھے کے پاس لے جاتا ہے جہاں اس پر پتھر برسائے جاتے ہیں اور اس طرح اس کو موت سے ہم کنار کر دیا جاتا ہے۔