نارائن پیٹ ۔ 12 ۔ مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تحصیلدار نارائن پیٹ مسٹر بی جی رامیشور ریڈی نے نمائندہ سیاست نارائن پیٹ مجاہد صدیقی سے ایک ملاقات میں دوران گفتگو اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے مسلمانوں کیلئے نئی متعارف کردہ شادی مبارک اسکیم سے فائدہ اُٹھانے والوں کی تعداد انتہائی محدود ہے ، انہوں نے انکشاف کیا کہ نارائن پیٹ منڈل سے تاحال صرف دس درخواستیں ہی تحصیل آفس کو پہنچائی ہیں ، جو آبادی کے تناسب سے انتہائی کم تعداد ہے ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہاں مستحقین کی تعداد کم ہے ۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ یہ درخواستیں دراصل آن لائن داخل کرنے کی سہولت مہیا کی گئی ہے ۔ درخواستوں کے ادخال کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود ان درخواستوں کو تنقیح و تحقیقات کیلئے متعلقہ تحصیلداروں کو روانہ کرتی ہے ۔ دفتر اقلیتی بہبود میں نارائن پیٹ منڈل سے کتنی درخواستیں آن لائن داخل ہوئی ہیں اس کا انہیں علم نہیں ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر صحافت کے ذریعہ مسلم دانشوروں و قائدین سے اپیل کی کہ وہ اس بہترین اسکیم سے اپنی قوم کو بھرپور فائدہ پہنچانے کیلئے آگے آئیں اور ان کی عملی رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ درخواستوں کو آن لائن داخل کرنے کے بعد دفتر اقلیتی بہبود میں بے جا کیوں روکی جاتی ہیں اس کے اسباب معلوم کرنے کی ضرورت ہے ۔ شرائط کی عدم تکمیل بھی درخواستوں کو آگے نہ بڑھانے کی ایک وجہ ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اسکیم سے مستحق و غریب خاندان ہی کو استفادہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ بعض درخواستیں غیرمستحقین کی بھی داخل کی گئی ہیں یعنی دوسری و تیسری شادی کیلئے جبکہ اس اسکیم کے تحت فائدہ اٹھانے کیلئے لڑکی کی پہلی شادی شرط ہے ۔