سیکولرازم مسلمانوں کی پہلی پسند : مفتی محمد مکرم احمد

شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں کہا کہ ہندوستان میں سیکولرازم اور جمہوری اقدار کی جڑیں بہت مضبوط ہوچکی ہیں اور اسی وجہ سے پچھلے 65 سالوں سے ہندوستان میں سیکولرازم کی جیت ہورہی ہے۔ ہندوستان کے عوام بلاتفریق مذہب و ملت، اتحاد و اتفاق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو پسند کرتے ہیں اور ہمیں امید ہیکہ اس مرتبہ الیکشن 2014ء میں بھی سیکولرازم کی فتح ہوگی۔ میڈیا میں زبردستی تشہیر کرکے نریندر مودی کی مقبولیت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔

ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی ہمیشہ اپنے وطن سے محبت کی ہے اور اس کیلئے اپنے جان و مال کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ اس کے برخلاف کچھ فرقہ پرست عناصر ملک کے حالات کو برباد کرنے کیلئے نفرت آمیز بیان دیتے ہیں جیسے امیت شاہ وغیرہ لیکن الیکشن کمیشن نے صرف فرقہ پرستوں پر کارروائی کرنے کے بجائے ان کے ساتھ دوسروں کو بھی پھنسایا ہے۔ یہ صرف فرقہ پرستوں کو خوش کرنے کیلئے کیا جارہا ہے۔

ہونا یہ چاہئے کہ جس کا جو جرم ہو اسی کو سزاء ملے۔ یہ معلوم ہوکر اور بھی افسوس ہوا کہ امیت شاہ سے پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ اس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ دہلی میں اردو کے ساتھ برابر ناانصافی کی جارہی ہے اور اس کی خبریں برابر میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ اس پر افسوس ہیکہ کھوکھلے دعوے کرکے مسلمانوں کو خوش کیا جاتا ہے۔ آج کل بھی دہلی میں اردو آفیسر کی جگہ پر ہندی آفیسر کا تقرر کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے اردو میڈیم اسکولوں اور اردو اساتذہ و طلبہ کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔ اردو اکیڈیمی کی ذمہ داری ہیکہ اردو میڈیم نصابی کتابیں وقت پر تیار ہوکر بازار میں آجائیں لیکن اسکولوں میں نیا سیشن شروع ہوچکا ہے اور کتابیں ندارد ہیں۔ اردو اساتذہ کے تقرر میں بھی غفلت کی جارہی ہے۔ شاہی امام نے لیفٹننٹ گورنر اور دہلی کے افسران سے اس طرف فوری توجہ دینے کی اپیل کی۔