سیمی کے دو کارکن سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر گرفتار

حیدرآباد 22 اکٹوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد پولیس نے 2 سیمی کے ارکان کو سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں گرفتار کرلیا جو مبینہ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی تربیت حاصل کرنے کیلئے افغانستان جانے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس نے آج شام یہ دعویٰ کیا ہے کہ سعیدآباد کے معتصم باللہ نے گرفتار سیمی کے ارکان کو مالی اور منطقی تائید فراہم کی۔ بتایا جاتا ہے کہ 25 سالہ شاہ مدثر عرف طلحہ متوطن تاج پورہ وارڈ شاہ کالونی عمر کھیڑ (مہاراشٹرا) اور 24 سالہ شعیب احمد خان عرف طارق بھائی متوطن اکھاڑہ بالاپور ضلع ہنگولی (مہاراشٹرا) نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ (فیس بُک) کے ذریعہ پاکستان کے ابو سیف، کامران شاہ اور افغانستان کے زاہد علی ہندی، میر شوکت سمیر خان اور سعیدآباد کے معتصم باللہ جو سابق سیمی رکن ہے سے چیاٹنگ کے ذریعہ رابطہ قائم کیا اور پاکستان کے کامران شاہ نے فیس بُک کے ذریعہ دھماکو اشیاء کے ذریعہ بم بنانے کا فارمولہ فراہم کیا اور اُس نے ہندوستان میں بم دھماکے کرنے کی ترغیب دی۔ پولیس نے بتایا کہ شعیب احمد خان انڈین مجاہدین کے میڈیا انچارج منصور علی پیر بوائے جسے پونے پولیس نے دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا ہے، کا قریبی ساتھی ہے اور ٹیکنالوجی سے بخوبی واقف ہے۔ مدثر مولانا آزاد یونیورسٹی کا گرائجویٹ ہے اور وہ بچپن سے سیمی کا رکن ہے۔)

مدثر اور احمد خان دونوں نے مبینہ طور پر مولانا عبدالعلیم اصلاحی کے فرزند معتصم باللہ سے مسلسل ربط میں رہنے کے بعد جاریہ سال 3 ستمبر کو حیدرآباد کا دورہ کیا اور معتصم سے ملک پیٹ کے ایک مدرسہ میں ملاقات کی۔ معتصم نے مبینہ طور پر مدثر اور شعیب کو القاعدہ کی تربیت حاصل کرنے کیلئے افغانستان جانے کی ترغیب دی اور اِس سلسلہ میں مالی مدد کے علاوہ ویزا کی فراہمی کا بھی وعدہ کیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیاکہ معتصم باللہ کی جانب سے حیدرآباد مدعو کئے جانے پرسیمی کے ارکان دوبارہ حیدرآباد پہونچے اور اپنے ہمراہ دھماکو اشیاء کا لٹریچر جس کا کوڈ ورڈ (حیدرآبادی بریانی) ہے ساتھ لے آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ شعیب افغانستان جانے کیلئے مکمل طور پر تیار ہوگیا تھا اور معتصم سے ملاقات کے لئے آج پھر ایک مرتبہ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پہونچنے پر گوپال پورم پولیس کی ایک ٹیم نے اُنھیں حراست میں لے لیا اور تفتیش کے دوران مدثر اور احمد خان نے کئی انکشافات کئے۔ پولیس نے گرفتار سیمی کے ارکان کے قبضہ سے لٹریچر، موبائیل فونس، بینک کے اے ٹی ایم کارڈس اور دیگر اشیاء برآمد کرلیا اور اُن کے خلاف مجرمانہ سازش، ملک کے خلاف غداری، دونوں فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنا اور انسداد غیر قانونی سرگرمیوں کے تحت ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے جیل بھیج دیا۔ انسپکٹر گوپال پورم مسٹر رام چندرا ریڈی نے بتایا کہ اِس کیس میں پاکستان کے ابو سیف، کامران شاہ، افغانستان کے زاہد الہندی کے علاوہ میر شوکت سمیر خان اور معتصم باللہ ہنوز مفرور ہے۔