سیاست سے مسلمانوں کی اٹوٹ وابستگی کی ضرورت

عادل آباد /18 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سیاست سے ہمارا گہرا تعلق ہونا چاہئے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں تحریک اسلامی سیاست میں ایک اہم رول ادا کر رہی ہے ۔ علمائے اکرام نے لکھا ہے جان و مال عزت و آبرو عقل مذہب نسل کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جناب ملک معتصم خان صدر ویلفیر پارٹی آف انڈیا آندھراپردیش نے کیا وہ جماعت اسلامی عادل آباد کی جانب سے منعقدہ تربیتی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انبیاء کی آمد کا مقصد عدل و ضبط کا قیام تھا ۔ دین کا تقاضہ ہے کہ سیاست و اقتدار میں رول ادا کریں ۔ آج اچھے نیک سمجھدار لوگ سیاست سے دور ہیں جس کی وجہ سے سیاست میں شرپسند افراد غالب ہیں ۔ انہوں نے آزادی ہند کے بعد سے اب تک کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کے علاوہ دیگر فرقہ پرست پارٹیوں نے مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہونچایا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تقسیم کے ذمہ دار مسلمان نہیں بلکہ فرقہ پرست عناصر اس کے ذمہ دار ہیں ۔ فرقہ پرستوں کی سازش کے نتیجہ میں فسادات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ حکومت نے سچر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایس سی ایس ٹی سے زیادہ پست مسلمان ہیں ۔

انہوں نے استفسار کیا کہ اس کیلئے کون اس کے ذمہ دار ہیں ۔ آج کوئی کرپشن کے خلاف اور کوئی عورتوں پر ظلم کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں ۔ لیکن اسلام کے پاس سارے مسائل کا حل موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو صرف کسی کا ووٹ بنک بن کر نہیں رہنا چاہئے ۔ عوام اب ایک تبدیلی چاہتے ہیں۔ نظریاتی طور پر مسلمانوں کے پاس ایک طاقت موجود ہے ۔ اس تربیتی اجتماع کا آغاز جناب ذوالفقار عالم کے درس قرآن سے ہوا ۔ ’’اقامت دین امت مسلمہ کی اصل ذمہ داری ‘‘ پر جناب تنویر احمد دعوت جہاد اور قربانی ، اسوہ صحابہ کی روشنی میں جناب محمد تنویر پاریکھ نے مخاطب کیا ۔ محمد حنیف خان نے ترانہ پیش کیا ۔ ضیاء الحق نے کنوینر کے فرائض انجام دئے ۔ مولوی محمد عبدالرشید کی دعاء پر اجتماع اختتام کو پہونچا ۔