نئی دہلی 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش چیف منسٹر کے عہدہ کے لئے کانگریس قائد کمل ناتھ اوّلین امیدوار کی حیثیت سے اُبھرے ہیں جبکہ شرومنی اکالی دل کے قائد نے آج الزام عائد کیاکہ کانگریس قیادت 1984 ء کے سکھ دشمن فسادات کے مجرمین کو انعام دے رہی ہے۔ اکالی دل نے الزام عائد کیاکہ کمل ناتھ سکھ دشمن فسادات میں اپنا ہاتھ رکھتے ہیں جو قومی دارالحکومت میں اندرا گاندھی کے 1984 ء میں اُن کے باڈی گارڈس کے ہاتھوں قتل کے بعد پھوٹ پڑے تھے۔ جب کبھی گاندھی خاندان اقتدار پر آتا ہے وہ 1984 ء کے فسادات کے مجرموں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اب راہول گاندھی اور گاندھی خاندان کمل ناتھ کو مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے منتخب کرنا چاہتا ہے۔ اکالی دل کے قائد منجندر سنگھ سورما نے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ راہول گاندھی اُن افراد کو جو 1984 ء میں سکھوں کے قاتل تھے، یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اُنھیں اب فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اُن کی حمایت میں ہیں اور اُنھیں سزا کے بجائے انعام دیں گے۔ اکالی دل کمل ناتھ کو چیف منسٹر مدھیہ پردیش کی حیثیت سے دیکھنا نہیں چاہتی کیوں کہ اُس کے خیال میں کمل ناتھ سکھ دشمن فسادات میں ملوث تھے۔ سورما نے کہاکہ سکھ امن پسند لوگ ہیں لیکن گاندھی خاندان کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ وہ عوامی برہمی جو گاندھی خاندان کے خلاف ہے، فیصلہ کن حد تک بڑھنے دیں گے بشرطیکہ کمل ناتھ کو چیف منسٹر مقرر کیا جائے۔ سکھوں کا ایک طبقہ چندے جمع کررہا ہے جبکہ کمل ناتھ کو پنجاب اور ہریانہ کا انچارج جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔ کمل ناتھ اِس عہدے پر اُس وقت سے ہی فائز ہیں۔ 1984 ء میں اُس دور کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو اُن کے سکھ باڈی گارڈس نے سنہرا گردوارہ امرتسر میں سنت بھنڈراں والے کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران فوج کو داخل کردیا تھا۔