پہلے مرحلہ میں سب انسپکٹر کو خصوصی کیمرہ ، منظر اور بات چیت کی ریکارڈنگ ثبوت ثابت
حیدرآباد ۔ 22 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد میں پولیس کی عوام دوست پالیسی میں ایک اور نئے باب کا آغاز ہونے جارہا ہے ۔ جو نہ صرف عوام بلکہ خود پولیس کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا چونکہ پولیس کی عوام سے بد اخلاقی اور عوام کو پولیس سے الجھنا مہنگا ثابت ہوگا ۔ شہر حیدرآباد میں عنقریب ٹرافک پولیس عہدیدار اپنی وردی پر کیمرے کے ساتھ دکھائی دیں گے اور ان کی کمر پر ایک ریکارڈر بھی ہوگا جس کے ذریعہ وہ تصویر کشی کے ساتھ ساتھ صاف طور پر ( آڈیو ) آواز کی ریکارڈنگ بھی کریں گے ۔ اس لیے طریقہ کار ’’ باڈی وارن کیمرہ ‘‘ کو رائج کرنے کے لیے ٹرافک پولیس کی جانب سے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں اور اس پراجکٹ کے لیے سٹی پولیس نے ٹنڈر مرحلہ کو بھی مکمل کرلیا ہے ۔ امکان ہے کہ عنقریب ٹنڈر کو قطعی شکل دے دی جائے گی ۔ اس نئے طریقہ کار کے بعد قصور وار شہری سے رشوت طلب کرنا جتنا ٹرافک عملہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا اتنا ہی قصور وار شہری کی جانب سے رشوت کی پیشکش کرنا بھی اتنا ہی نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ ذرائع کے مطابق شہری اور ٹرافک پولیس عہدیدار کی تمام سرگرمیاں اس کیمرہ میں ریکارڈ ہوں گی اور گفتگو ریکارڈ ہوگی ۔ ایسے وقت رشوت کو پیش کرنا دفعہ 12 انسداد رشوت ایکٹ 1988 کے تحت 6 ماہ سے 5 سال تک جیل کی سزا ہوسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ نقد جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا ۔ اس خصوص میں شہر کے ٹرافک سربراہ ایڈیشنل کمشنر ٹرافک مسٹر جتیندر نے بتایا کہ باڈی وارن کیمرے کے طریقہ کار کو رائج کرنے کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں اور ٹنڈر بھی طلب کیا جاچکا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ طریقہ کار بہترین تبدیلی کا کام کرے گا ۔ پہلے مرحلہ کے تحت سب انسپکٹرس کو یہ باڈی وارن کیمرے دئیے جائیں گے ۔ جس کے بعد شہر میں اس پراجکٹ کو وسعت دی جائے گی ۔۔