سونیا اور راہول گاندھی انکم ٹیکس مقدمہ کی 4 ڈسمبر کو قطعی سماعت

نئی دہلی 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے صدرکانگریس راہول گاندھی اور انکی والدہ سونیا گاندھی کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی قطعی بحث 4 ڈسمبر کو مقرر کی ہے جنھوں نے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں ٹیکس کے تخمینہ برائے 2011-12 ء کی کشادگی میں راحت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنی درخواستوں پر کوئی نوٹس جاری نہیں کی کیونکہ محکمہ انکم ٹیکس نے اپنی درخواستوں پر کوئی نوٹس جاری نہیں کی کیونکہ محکمہ انکم ٹیکس کی نمائندگی اسکے وکیل کی طرف سے کی جارہی ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے عدالت عظمیٰ میں یہ کیویٹ داخل کی ہیکہ اس مقدمہ میں ایسی کسی بھی اپیل پر سماعت کرنا چاہئے جو ہائیکورٹ احکام کیخلاف دائر کی گئی ہے۔ کیویٹ ایک قانونی ضابطہ جسکے ذریعہ کوئی درخواست مقدمہ کے کسی بھی فریق کی طرف سے دائر کی جاسکتی ہے تاکہ پیشگی حکم التواء حاصل کرلیا جائے۔ ایک مختصر سماعت کے بعد جنھیں اے کے سیکری اور جسٹس ایس اے عبدالنذیر پر مشتمل بنچ نے کہاکہ ’’چونکہ مدعی علیہ (محکمہ انکم ٹیکس) نے حاضری میں دی ہے چنانچہ ہم کوئی رسمی نوٹس جاری نہیں کرینگے۔ تاہم قطعی بحث کی سماعت ہم 4 ڈسمبر کو مقرر کررہے ہیں۔ یہ اپیلیں راہول گاندھی، انکی والدہ سونیا گاندھی اور سینئر کانگریس لیڈر آسکر فرنانڈیز نے داخل کی تھی جنھوں نے ہائیکورٹ کی طرف سے 10 ستمبر کو جاری کردہ فیصلہ کو چیلنج کیا تھا۔