نئی دہلی ۔ 17اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی نے آج کہا کہ کانگریس قائدین راہول گاندھی اور سونیا گاندھی کو معذرت خواہی کرنا چاہئے کیونکہ انھوں نے ہندوؤں کو عالمی سطح پر بدنام کیا ہے اور ایک ٹیلی گرام کا حوالہ دیا جو وکی لیکس سے حاصل کیا گیا اور اس طرح بی جے پی نے اپنے مطالبہ کی تائید میں ثبوت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ بی جے پی کا کانگریس پر ازسرنو حملہ ایک روز بعد سامنے آیا جبکہ خصوصی مخالف دہشت گردی عدالت نے حیدرآباد کی مکہ مسجد میں 2007 ء میں پیش آئے بم دھماکہ سے متعلق کیس میں دائیں بازو کے جہد کار سوامی اسیمانند اور چار دیگر کو الزامات منسوبہ سے بری کردیا گیا ہے ۔ بی جے پی ترجمان سمبیت پاترا نے پریس کانفرنس میں کہاکہ اگر کانگریس ہندوستان کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے تو سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو سارے ملک سے معذرت خواہی کرنا چاہئے کہ اُس نے ہندو مذہب کو بدنام کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ زعفرانی دہشت گردی بھی پائی جاتی ہے ۔ انھوں نے وکی لیکس سے حاصل کردہ ایک ٹیلی گرام دکھایا جس میں سابقہ کانگریس زیرقیادت یوپی اے حکومت اور اُس وقت کے امریکی سفیر اور راہول گاندھی کے درمیان گفتگو کو پیش کرتا ہے ۔ اس گفتگو کے ٹرانسکرپٹ کے مطابق راہول گاندھی نے کہاکہ زعفرانی دہشت گردی لشکر طیبہ سے کہیں بڑھکر خطرہ ہے ۔ پاترا نے کہا کہ اس سے راہول گاندھی کی ہندوؤں کی تئیں ذہنیت ظاہر ہوتی ہے ۔ اُن کی پارٹی نے ہمیشہ ہندوؤں پر اپنا حق جتایا ہے ۔