نظام آباد میں واٹس اپ اور فیس بک پر سیاسی وفاداریوں کو تبدیل کروانے کی مہم عروج پر
نظام آباد ۔/10 اکتوبر (محمد جاوید علی کی رپورٹ)انتخابات میں کامیابی کیلئے تمام سیاسی جماعتیں سوشیل میڈیا کے استعمال کے ذریعہ اپنی پارٹیوں کی کامیابی کیلئے سرگرم نظر آرہی ہیںاور سوشیل میڈیا کے استعمال کے ذریعہ ہلچل پیدا کیا جارہا ہے ۔ سوشیل میڈیا پر مہم کو لے کر سیاسی قائدین مسرتوں کا اظہار کررہے ہیں ۔ سوا ل پر سوال کے ذریعہ مسیجوں کو بھیجا جارہا ہے ۔ جلسہ ، جلسوں کے انعقاد کو لیکر سوشیل میڈیا پر مسیجوں کو روانہ کرنے میں مصروف ہے ۔ دیہی سطح سے لیکر شہروں تک سیاسی جماعتوں کی جانب سے انجام دئیے جانے والے پروگراموں کو واٹس اپ ، فیس بک ، ٹوئٹر پر اپ لوڈ کیا جارہا ہے جبکہ قدیم دور میں سیاسی جماعتوں کے قائدین کی سرگرمیاں اور نقل و حرکت کے بارے میں عوام کو پتہ نہیں چل رہا تھا لیکن اب ہر وقت سیاسی جماعتوں کے قائدین کی سرگرمیاں اور نقل و حرکت ضلع سطح پر عوام کیلئے عام ہوگئی اور سوشیل میڈیا کی علیحدہ طور پر کمیٹیاں بھی قائم کی جارہی ہے برسراقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے پر سوال پر سوال کئے جارہے ہیں ٹی آرایس سنہرے تلنگانہ کے قیام کی دلیل پیش کررہی تو اپوزیشن سنہرا تلنگانہ کہا ں پر ہے کہتے ہوئے سوالات کررہے ہیں ، مسیجوں سے سیاسی قائدین بسا اوقات میں خوف زدہ بھی نظر آرہے ہیں اور اس کا نتیجہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا اس بارے میں بھی فکر مند نظر آرہے ہیں اور انتخابی اعلانات کے بعد اہم سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اپنی پارٹیوں میں شامل کیلئے ترغیب دینے کے علاوہ بڑے پیمانے پر اہم قائدین کو شمولیت کیلئے ترجیح دے رہے ہیں خاص طور سے گذشتہ چند دنوں سے ٹی آرایس اور کانگریس میں بڑے پیمانے پر شمولیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ٹی آرایس کانگریس سینئر قائد سریش ریڈی کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے علاوہ کاماریڈی ضلع کے ماچہ ریڈی کے منڈل پرجا پریشد نرسنگ رائو کانگریس سے نکال کر ٹی آرایس میں شمولیت کرایا اور اسی طرح بی جے پی سابق وزیر انجنیلو کو ٹی آرایس میں شمولیت کیلئے تیار کیا گیا ۔ ایم ایل سی بھوپت ریڈی کو ٹی آرایس نکال کر کانگریس میں شمولیت کروایا گیا ۔ اسی طرح ڈی سرینواس کے حامیاں بھی ٹی آرایس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت کے امکانات نظرآرہے ہیں ۔ کانگریس اور ٹی آرایس بی جے پی پارٹی نے انتخابات کے ساتھ ہی شمولیت کو ترجیح دیا جارہا ہے چند دنوں سے واٹس اپ ، فیس بک کے علاوہ پارٹیوں کی تبدیلی کیلئے ترغیب دی جارہی ہے ۔ انتخابات کے اعلان سے قبل ہی ضلع میں سرگرمیاں عروج پر نظر آرہی ہے ۔