کاماریڈی21 نومبر( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ کے نام پر چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو نے عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق ریاستی وزیر و قانون ساز کونسل کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے کاماریڈی حلقہ کے راجم پیٹ میں کسانوں سے ملاقات کے دوران مسٹر شبیر علی نے راجم پیٹ میں حال ہی میں فوت ہونے والے کسان لنگم کی بیوہ بھوموا سے ملاقات کی اور ان کی جانب سے 10روپئے کی مالی امداد کی۔ اس موقع پر کسانوں سے بات چیت کرتے ہوئے انتخابات سے قبل چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو کسانوں کیلئے کئی ایک اعلانات کئے ۔ چھ ماہ کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی ایک بھی اعلان پر عمل نہیں کیا۔ برقی کی سربراہی میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ برقی کٹوتی کی وجہ سے فصلوں کی تباہی پر کسان خودکشی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ قرضوں کے بوجھ سے اور فصلوں کی تباہی سے فوت ہونے والے کسانوں کے افراد خاندان سے ٹی آرایس قائدین ملاقات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھ رہے ہیں کانگریس کے دور حکومت میں خودکشی کرنے والے کسانوں کے افراد خاندان کو معاشی طور پر امداد کرتے ہوئے دو لاکھ روپئے فراہم کیا گیا تھا اور اس کیلئے جی او نمبر 421 جاری کیا تھا۔ چیف منسٹر نے اس جی او کو نظر انداز کرتے ہوئے چھ ماہ سے صرف بیان بازی کے سواء کچھ نہیں کیا۔ حیدرآباد میں بڑی عمارتیں تعمیر کرنے اور سنگا پور کی طرز پر حیدرآباد کو تبدیل کرنے کے نام پر گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کسانوں کو قرضہ جات کی معافی سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا صرف معمولی رقم جاری کرتے ہوئے وقت ضائع کررہے ہیں۔کانگریس کے دورحکومت میں 60 سال عمر والے معمر افراد کو وظائف منظور کیا جارہا تھا۔ ٹی آرایس اقتدار میں آنے کے بعد عمر کی حد میں اضافہ کرتے ہوئے 65 کیا گیا کہتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ عمر کی حد میں اضافہ سے کئی افراد کو نقصان ہورہا ہے ۔ کے سی آر کے خاندان کی ترقی کے علاوہ ریاست کی کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے اور معمر افراد کو وظیفہ کے حصول کیلئے دفاتر کے چکر کاٹنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے خودکشی کرنے والے کسانوں کے افراد خاندان کی باز آبادکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے 5لاکھ روپئے ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر کوآپریٹو سوسائٹی کے صدر میر امتیاز علی، این اشوک و دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ بعدازاں مسٹر شبیر علی نے گندھاری پہنچ کر رکنیت سازی مہم کا آغاز کیا اور اس موقع پر کانگریس کارکنوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کے قیام سے قبل چندر شیکھر رائو نے عوام کو اس بات سے واقف کروایا تھا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد نوجوانوں کو ملازمتین فراہم کرنے اور کسانوں کو برقی کی سربراہی باقاعدہ طورپر سربراہ کرنے اور قرضہ جات کی معافی کا اعلان کیا تھا اقتدار پر آنے کے بعد یہ تمام چیزوں کو فراموش کرتے ہوئے سروے کے نام پر عہدیداروں کو دن بھر سڑکوں پر گھمارہے ہیں اور می سیوا مراکز اور زیراکس سنٹروں پر عوام کا ہجوم بنا ہوا ہے اور کسانوں کو قرضہ جات کی معافی ابھی تک نہیں کی گئی اور بینک عہدیدارنئے قرضہ جات کی فراہمی سے گریز کررہے ہیں۔ مسٹر شبیر علی نے سنہرے تلنگانہ کے بجائے سوکھا تلنگانہ بنانے کا الزام عائد کیا اور حکومت کی ناکامیوں کیخلاف کانگریس کارکنوں کو کمربستہ ہوجانے کی خواہش کی۔ گندھاری منڈل سے تعلق رکھنے والے لکشمن معاشی بحرانی کے سبب خودکشی کی تھی مسٹر شبیر علی نے ان خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے 10 ہزار روپئے کی مالی امداد کی۔ مرحوم کے دو فرزندان کو انٹرمیڈیٹ تک ذاتی خرچ سے تعلیم دلانے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سابق رکن پارلیمان نظام آباد سریش شٹکر، سابق صدرنشین بلدیہ کے سرینواس رائو و دیگر بھی موجود تھے۔