سعودی عربG-10 گروپ کی تین رکنی کمیٹی میںشامل

دبئی۔ 2 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) ارجنٹائن کی میزبانی میں ہونے والے گروپ
G-20
کے اجلاس میں سعودی عرب کی ایک اہم کامیابی مملکت کا G-20کی تین رکنی کمیٹی ’’ٹرائیکا‘‘ میں شمولیت ہے۔’’العربیہ‘‘ کے مطابق یہ کمیٹی گذشتہ ، حالیہ اور آنے والے سیشن میں میزبانی کرنے والے ملکوں پر مشتمل ہوتی ہے۔جاپان اس کمیٹی میں 2019ء کے سیشن کی صدارت کرے گا، ارجنٹائن گذشتہ اور سعودی عرب 2020ء کے اجلاس کے میزبان کی حیثیت سے کمیٹی میں شامل ہوا ہے۔اس کمیٹی کا مقصد گروپ میں زیربحث آنے والے موضوعات اور ایجنڈے پر کوآگے بڑھانے میں دیگر رکن ممالک کی مدد کرنا ہے۔ حالیہ سیشن میں ارجںٹائن کی جانب سے G-20گروپ کی میزبانی پر سعودی عرب نے ارجنٹینا کے حسن انتظام کو سراہا۔ اس موقع پر سعودی عرب اور ارجنٹائن کے درمیان بنیادی ڈھانچے، خوراک کے تحفظ، خواتین کی بہبود اور ڈیجیٹیل اقتصادیات کے میدانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔سعودی عرب دنیا کے بیس بڑے صنعتی اور معاشی لحاظ سے بڑے ملکوں میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائز کے اعتبار سے چین اور جاپان کے بعد تیسرے نمبر پر ہے۔

اس کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 507 ارب 20 کروڑ ڈالرز (1.9 ٹریلین ریال،ایک پدم 900 کھرب ) ہے۔آئی ایم ایف ، عالمی بنک اور مقامی ایجنسیوں کے اعداد وشمار کے مطابق اکتوبر کے اختتام پر جی 20 کے رکن ممالک (یورپی یونین بلاک کے بغیر) کے تمام غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 7.9 ٹریلین ڈالرز( 7 پدم 9 سو کھرب ڈالر)تھی۔اس طرح سعودی عرب کے غیرملکی زرمبادلہ کا حجم گروپ کے کل زرمبادلہ کے ذخائر کا 6.4 فی صد بنتا ہے۔دریں اثناء G-20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ارجنٹینا کے صدر موریشسیو ماکری نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہفتے کے روز روسی صدر ولادی میر پوتین ، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس ، اطالوی وزیراعظم جیوسیپ اور ارجنٹینا کے صدر موریشسیو ماکری سمیت مختلف عالمی لیڈروں سے ملاقات کی ہے۔ G-20 کے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں اصلاحات سے اتفاق کیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رہنماؤں نے مستقبل میں روزگار ، انفرا اسٹرکچر ، پائیدار ترقی اور تحفظ خوراک ایسے اہم موضوعات پر غور کیا ہے۔