سعودی عرب کا جنوبی کوریا کے ساتھ نیوکلیئر تعاون معاہدہ

ریاض ۔ 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کوریا اور سعودی عرب نیوکلیئر تعاون کے ایک معاہدہ پر دستخط کریں گے جبکہ صدر جنوبی کوریا پارک گیون ہائی سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کریں گی۔ ایک سفارتکار کے بموجب سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ نے بھی اس اطلاع کی توثیق کی ہیکہ صدر جنوبی کوریا پارک گیون ہائی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ چکی ہیں۔ ایک سفارتی عہدیدار نے کہا کہ معاہدہ کا کوئی نہ کوئی چوکھٹا تیار کرلیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ٹیکنیکی تعاون، تحقیق اور ترقی کے علاوہ نیوکلیئر شعبہ کے ارکان عملہ کے باہمی تبادلے کے بارے میں ہے۔ سیول کے سفارتخانہ کے سیاسی شعبہ کے سربراہ جنگبھولی نے کہا کہ معاہدہ پر ملک عبداللہ سٹی برائے ایٹمی و قابل تشدید توانائی میں دستخط کئے جائیں گے۔ جنوبی کوریا کے سائنس، آئی سی ٹی اور منصوبہ بندی کی وزارت کے بموجب تیل کی دولت سے مالامال سب سے بڑا ملک سعودی عرب جنوبی کوریا کیلئے تیل اور گیس فراہم کرنے والا واحد ذریعہ ہے جس پر ملک کی برقی پیداوار کا انحصار ہے۔ مرحوم ملک عبداللہ نے 2010ء میں کے اے کیر قائم کیا تھا

تاکہ متبادل برقی توانائی بشمول جوہری برقی توانائی تیار کی جاسکے۔ لی نے کہا کہ انہیں توقع ہیکہ دیگر کئی معاہدات ان میں سے بیشتر معاشی معاہدہ ہوں گے۔ سعودی اور جنوبی کوریا کے درمیان طئے پائیں گے۔ جنوبی کوریا ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے جو اپنی برقی توانائی کی ضروریات کیلئے مکمل طور پر سعودی عرب پر منحصر ہے۔ پارک کا دورہ 2012ء سے جنوبی کوریا کے کسی بھی صدر کا اولین دورہ سعودی عرب ہے۔ دونوں ممالک نے روایتی دوستانہ تعلقات قائم ہیں لیکن موجودہ دورہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی وجہ بنے گا۔ علاوہ ازیں مشترکہ مفادات پر مبنی موضوعات پر تبادلہ خیال بھی کیا جاسکے گا۔ ملک سلمان اپنے بھائی ملک عبداللہ کے انتقال پر جنوری میں تخت نشین ہوئے ہیں۔