ریاض 18 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کی وزارت محنت نے آج دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ اقامہ اور لیبر قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں کی اصلاح اور اقاموں کا موقف درست کرنے کیلئے کوئی رعایتی مہلت نہیں دی جائے گی۔ وزارت محنت کا یہ بیان ایک ایسے وقت جاری کیا گیا جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم بیرونی تارکین وطن کو اقامہ کا موقف درست کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے نئی رعایتی مہلت دینے کے ایک منصوبہ سے متعلق افواہیں گشت کررہی تھیں۔ سعودی وزارت محنت کے ایک ترجمان تائثیر المفرج نے کہاکہ ’’لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکبین کو نئی رعایتی مہلت دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور اس ضمن میں کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ اُنھوں نے ایسی کسی رعایتی مہلت کے امکان کو مسترد کردیا اور ذرائع ابلاغ کے چند گوشوں سے دی جانے والی اطلاعات کو محض قیاس آرائی قرار دیا۔
المفرج نے کہاکہ یہ افواہیں وہ افراد پھیلا رہے ہیں جو رعایتی مہلت اور (لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف) مہم کے درمیان فرق کو سمجھنے سے معذور ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ رعایتی مہلت 5 نومبر 2013 ء کو ختم ہوگئی اور اب اقاموں کا موقف درست کرنے میں ناکام بیرونی تارکین وطن کے خلاف گرفتاریوں کی مہم جاری ہے۔ تاہم رعایتی مہلت دینے کے بارے میں واضح تردید کے باوجود متعدد آجرین اور ملازمین کو یہ اُمید ہے کہ اقاموں کا موقف درست کرنے کیلئے نئی رعایتی مہلت دی جائے گی۔ عوامی سلامتی کے ڈائرکٹر لیفٹننٹ جنرل عثمان المحرج نے کہاکہ نائب ولیعہد محمد بن نائف نے لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گرفتاریوں اور اُنھیں ملک بدر کرنے کیلئے آئندہ ماہ سے دوسرے مرحلہ کی مہم شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔