ریاض 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے کہا ہے کہ بشمول دو سعودی شہری سات مجرمین پر سزائے موت کی تعمیل کرتے ہوئے اُنھیں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ وہ مغربی شہر جدہ میں ایک گودام کے پاکستانی گارڈ کے قتل اور ڈکیتی کے جرم کے مرتکب پائے گئے تھے۔ وزارت داخلہ نے کہاکہ دو سعودیوں اور چاڈ کے تین شہریوں نے گودام میں ڈکیتی کے دوران پاکستانی گارڈ کو زدوکوب کرتے ہوئے اور اس کا موبائیل کا سرقہ کرنے کے بعد اس کو چاقو گھونپ دیا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اُنھوں نے یہ جرم کب کیا تھا اور آج کس طرح سزا پر تعمیل کی گئی۔ سعودی عرب میں بالعموم برسر عام سر قلم کرتے ہوئے یا پھر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعہ مجرمین پر سزاء موت کی تعمیل کی جاتی ہے۔ اس ملک میں 2018 ء کے دوران تاحال 64 افراد کی سزائے موت پر تعمیل کی گئی۔ 2017 ء میں 122 اور 2016 ء میں 144 افراد کو پھانسی پر لٹکایا گیا تھا یا سر قلم کئے گئے تھے۔ شمالی شہر تبوک میں ایک لبنانی نژاد شخص کو منشیات کی اسمگلنگ اور ایک سعودی شہری کو دوسرے سعودی شہری کے قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی ہے۔ قدامت پرست مملکت سعودی عرب نے 2016ء میں 144، 2017ء میں 122 اور 2018ء میں تاحال 66افراد کی سزائے موت پر عمل آوری کی گئی ہے۔ سعودی عرب میں نئے فرامانروا نے کئی قوانین میں اصلاحی مہم کا آغاز کیا ہے جس کے نتیجہ میں جاریہ سال سزائے موت کی تعداد میں کمی کا امکان ہے۔