ریاض ۔ 19 نومبر(سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے حکمران ملک سلمان نے مملکت کے نظام عدلیہ کی تعریف کرتے ہوئے برسرعام تبصرہ کیا کہ جمال خشوگی کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد ملک کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کے دوران عدلیہ نے قابل تعریف فرض انجام دیا۔ گذشتہ ہفتہ وکیل استغاثہ نے ولیعہد شہزادہ محمدبن سلمان کے سعودی قونصل خانہ استنبول میں جمال خشوگی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا لیکن سی آئی اے نے مبینہ طور پر اطلاع دی کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔ کون کہا کہ 21 افراد اس سلسلہ میں زیرحراست ہیں۔ مملکت نے اسلامی حصول انصاف و مساوات قائم کئے ہیں اور ہمیں عدلیہ اس کوشش پر فخر ہے۔ وکیل استغاثہ کی کارکردگی اور ان کو دی ہوئی ذمہ داری کی دیانتداری کے ساتھ ادائیگی پر پوری قوم کو فخر کا احساس ہوتا ہے۔ 82 سالہ حکمران نے راست طور پر امریکہ کی جانب سے سعودی عرب پر جمال خشوگی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے کا تذکرہ نہیں کیا تاہم انہوں نے کہا کہ ہندوستان امریکہ کا ایک نمایاں حلیف ہے اس نے کسی بھی امریکی قائد پر الزام عائد کرنے کی جبری کوشش نہیں کی۔ انہوں نے سی آئی اے کے انکشافات کو مسترد کردیا اور کہا کہ کیا واقعہ پیش آیا تھا اس کی تفصیلات فراہم کرنے کیلئے وہ بالکل تیار ہے۔ قبل ازیں سعودی عرب نے کہا تھا کہ دستاویزات کے حصول کے بعد خشوگی سفارتخانہ سے چلا گیا تھا اور بعدازاں اس کا قتل ایک زبانی تکرار کے دوران ہوا تھا۔ اپنے تازہ ترین بیان میں سعودی وکیل استغاثہ نے کہا کہ ایک 15 رکنی ٹیم استنبول روانہ کی گئی تھی تاکہ خشوگی کی ذاتیات کو مملکت سعودی عرب کو منتقل کیا جاسکے لیکن اسے یقین دلایا گیا کہ سرکشوں کی اس کارروائی میں اس کا قتل ہوا تھا اور نعش دستیاب نہیں ہوئی۔