سعودی خاتون اینکروں کیلئے ’ڈریس کوڈ‘ منظور

ریاض ، 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کی شوریٰ کونسل نے ملک میں کام کرنے والی خاتون ٹی وی اینکروں کیلئے لباس کے نئے ضابطے کی منظوری دی ہے جس کے تحت انھیں ایسا لباس پہننے کا پابند بنایا گیا ہے جو شائستہ ہو اور جس سے ان کی خوب صورتی کا اظہار نہ ہو۔ شوریٰ کونسل کی میڈیا کمیٹی کے چئیرمین احمد آل زیلعی کا کہنا ہے کہ اس قانون کی کابینہ سے منظوری کے بعد اس کا سعودی عرب میں کام کرنے والی تمام خاتون میڈیا ورکروں پر اطلاق ہوگا۔ ان میں ایم بی سی نٹ ورک کی اینکر خواتین بھی شامل ہیں۔ شوریٰ کی ایک رکن لطیفہ آل شعلان نے کونسل کے ارکان کی جانب سے خاتون ٹی وی اینکروں کے لباس کے ضابطے میں دلچسپی پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے کہیں زیادہ اہمیت کے حامل مسائل ہیں جنھیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں دہشت گرد گروپ داعش کی میڈیا پر سرگرمیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان سے لاحق خطرات سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے طاقتور بین الاقوامی میڈیا میں سعودی عرب کے خلاف چلائی جانے والی مذموم مہم کا توڑ کرنے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ شوریٰ کونسل کے اس فیصلے سے قبل ہی سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنی خاتون اینکروں کو روایتی عبایا پہننے کا کہہ دیا تھا۔ میزبان بدور احمد پہلی اینکر تھیں جو سیاہ رنگ کے عبایا کے ساتھ ’الاخباریہ‘ نیوز اسٹیشن پر نمودار ہوئی تھیں۔ شوریٰ کونسل کی ایک رکن نورا آل عدوان نے سعودی عرب کے ملکیتی تمام نجی ٹی وی اسٹیشنوں میں کام کرنے والی خواتین کیلئے ’ڈریس کوڈ‘ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔