سزا یافتہ خطرناک مجرم سے انٹرویو کی اجازت دینے پر احتجاج

نئی دہلی ۔ 4 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک غیر متوقع اقدام میں اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ خاتون ارکان پارلیمنٹ نے آج لوک سبھا میں ایوان کے وسط میں پہنچ گئیں اور تہاڑ جیل میں مقید اجتماعی عصمت ریزی کیس کے سزا یافتہ ملزم سے انٹرویو لینے کی اجازت دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا ، جس کے باعث مختصر وقفہ کیلئے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردینا پڑا۔ اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ تمام خاتون ارکان نے جیہ بچن (سماج وادی پارٹی) کی قیادت میں اچانک ایوان کے وسط میں پہنچ گئیں اور جیل میں ملزم مکیش سے انٹرویو لینے کی اجازت کے مسئلہ پر کارروائی سے متعلق حکومت کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں اپوزیشن کے مرد ارکان بھی شامل ہوگئے جس کے باعث نائب صدرنشین پی جے کورین نے 15 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔

قبل ازیں کے سی تیاگی (جنتا دل متحدہ) نے بتایا کہ انہوں نے خواتین کے خلاف عصمت ریزی کے ملزم کی جانب سے بعض غیر شائستہ تبصرہ کے مسئلہ کو اٹھانے کیلئے ایوان کی کارروائی معطل کرنے کی نوٹس دی ہے اور انٹرویو کی اجازت دینے پر ڈائرکٹر جنرل تہاڑ جیل اور دیگر عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سزا یافتہ مجرم کو جلد از جلد پھانسی دینے کیلئے ایک خصوصی عدالت قائم کی جائے۔ تاہم نائب صدرنشین کورین نے کہا کہ یہ نوٹس نامنظور کردی گئی ہے لیکن وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس طرح کا انٹرویو قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے حیرت کااظہار کیا کہ کس طرح ایک مجرم سے جیل میں انٹرویو کی اجازت دیدی گئی جو کہ انتہائی سنگین معاملہ ہے کیونکہ انتہائی بہیمانہ جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد مجرم نے اسے حق بجانب قرار دیا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ انٹرویو کی اجازت اور قصوروار عہدیداروں کے خلاف کارروائی پر ایک رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ دریں اثناء مملکتی وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے بتایا کہ وزیر داخلہ نے اس مسئلہ کا سخت نوٹ لیا ہے اور قصورواروں کے خلاف یقیناً کارروائی کی جائے اور کسی کو بخشا نہیں جائے گا لیکن جیہ بچن اس جواب پر مطمئن نہیں ہوئیں اور اچانک اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوگئیں اور کہا کہ خواتین نہیں چاہتی کہ حکومت اس واقعہ پر مگرمچھ کے آنسو بہائے اور فی ا لفور کارروائی چاہتے ہیں،

جس پر کورین نے بتایا کہ حکومت نے پہلے ہی جواب دیدیا ہے لیکن غیر مطمئن جیہ بچن ایوان کی وسط میں پہنچ گئیں جس کے ساتھ ہی دیگر اپوزیشن جماعتوں بشمول کانگریس اور لیفٹ کے ارکان بھی احتجاج میں شامل ہوگئے ۔ نائب صدرنشین نے کہا کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں، میں سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ اب لوگ اپنی نشستوں پر واپس کیوں نہیں جائیں۔ احتجاج میں اپوزیشن کے مرد ارکان کی شمولیت کے بعد حالات بے قابو ہوگئے جس پر 15 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردیا گیا جبکہ پارلیمنٹ میں ایک سزا یافتہ مجرم کے انٹرویو پر تنقید اور تعریض کے پیش نظر وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ڈائرکٹر جنرل تہاڑ جیل کو طلب کیا جہاں پر متنازعہ دستاویزی فلم کیک شوٹنگ کی گئی تھی ۔ یاد رکھا جائے کہ ڈی جی الوک کمار نے وزیر داخلہ کو ج یل میں مقید مجرم مکیش سنگھ سے انٹرویو لینے کیاجازت کے طریقہ کار سے واقف کروایا اور قیدیوں سے ملاقات کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا۔