سر سید احمد خاں اور اردو

 

جسٹس جسپال سنگھ (دہلی)
(دہلی ہائی کورٹ کے معروف سابق جج جسٹس جسپال سنگھ نے سر سید احمد خاں کی دو صد سالہ سالگرہ کے موقع پر دہلی کے اسلامک کلچرل سنٹر میں جو خطبہ پڑھا تھا ، اسے انہوں نے روزنامہ ’’سیاست‘‘ میں اشاعت کیلئے روانہ کیا ہے ۔ جسٹس جسپال سنگھ اردو کے سچے بہی خواہ اور ہمدرد ہیں)
خواتین و حضرات !
آپ نے مجھے نوازا۔ ممنون ہوں۔ شکر گزار ہوں۔ بہت عرصہ تک سوچتا رہا کہ انگریزی میں لکھوں، پھر سوچا ایسی زبان میں لکھا جا ئے کہ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ۔ لاطینی اور یونانی گو کہ اب بھی لکھی اور بولی جاتی ہوں گی پر سیر سید کی زبان تو اب بھگوان کی کرپا سے علیگڑھ میں بھی کفر ہے۔ میں گیا تھا وہاں کچھ ماہ پہلے۔ ایک بھی سائین بورڈ اردو میں نہ پایا ۔ آنکھیں ترس گئیں ۔ سنا تھا اردو اسی دیش کی ماں جائی ہے ۔ اردو کے مقدر کو کیا رونا، آج کل تو ماں ہی سڑکوں اور کوچوں میں قتل و غارت کا سبب بنی ہوئی ہے۔
اک زمانہ گزرا G.K.Chesterton نے کہا تھا :
The Chief Object of education is not to learn things but to unlearn them
جی چاہتا ہے اس کے قدم چوم لوں۔ آج تک ہمارے علم میں یہی تھا کہ ہلدی گھاٹی کی جنگ اکبر نے جیتی اور یہ کہ اورنگ زیب نے اپنے والد شاہ جہاں کو تاج محل میں قید رکھا۔ یہ تو اب پتہ چل رہا ہے کہ دراصل اکبر کو تو شکست ہوئی تھی اور یہ کہ اورنگ زیب نے نہیں بلکہ شاہجہاں نے اپنے والد کو تاج محل میں جو کہ پہلے ایک مندر تھا میں قید رکھا۔ اسے کہتے ہیں جہالت۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ ہندوستان کے نامور تاریخ دان سر جادو ناتھ سرکار کے ساتھ ہیں کہ اس یگ کے مہان گیاتا پروین توگڑیاؔ صاحب اور بھارت کے مہان نیتا سومؔ کے ساتھ۔ ویسے آپ کی جانکاری کیلئے شاید یہ کافی ہو کہ سرجادو ناتھ سرکار تو کب کے سپرد خاک ہوئے پر یہ دونوں مہان آتمائیں آج بھی نہ صرف زندہ ہیں بلکہ دندنا رہی ہیں۔ میں نے یہ اطلاع آپ کو صرف اس لئے دی ہے چونکہ آپ کا یہ جاننا آپ کی صحت کیلئے لازم تھا۔ مدت ہوئی اقبال نے کہا تھا ؎
قوتِ فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے
پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے
سرسید یہ سمجھتے تھے اور اسی لئے گھنگھرو باندھ طوائف کے کوٹھے پر بھی جا پہنچے تھے ۔ وہ جنون اب کیا ہوا؟ کہاں گئی وہ دیوانگی جو دیوانہ بنادے ؟ کہاں گئے وہ الطاف حسین حالی ، حسرت موہانی ، محمد علی جوہر ، سیف الدین کچلو ، رفیع احمد قدوائی ؟ کیا ہوئی وہ سردار جعفری ، جان نثار اختر ، شہریار کی شاعری ؟ وہ کوئی خواب تو نہ تھا ۔ پھر آج کیا ہوا ؟ کیوں ہوا ؟ چہرے تو بہت ہیں پردہ اقبال کا شاہین کہاں ہے ؟ آوازیں تو ہیں پر مردہ کیوں ہیں ؟ سر سید نے تو علم وہنر ، ہم وطنی اور یکجہتی کا ایک جیتا جاگتا ادارہ قائم کیا تھا ۔ اس میں قبر کی گہرائیوں کا سناٹا کیوں ہے ؟ یہ صرف گارے اور اینٹوں کی دیواریں تو نہیں ہیں۔ پھر وہ ہمت مرداں کا کیا ہوا ؟ وہ آوازیں جو سناٹوں کو چیر کر طوفان کھڑا کردیں، اُن آوازوں کا کیا ہوا ؟ سر سید نے تو اقبال کے طایر لاہوتی کا خواب دیکھا تھا ۔ یہ شکستہ حال شکستہ پر کون ہیں؟ وہ سر سید کے خوابوں کا میر کارواں کیا ہوا ؟ کوئی سینہ تان کر بلند آواز میں کیوں نہیں کہتا ۔
نہ تو زمیں کیلئے ہے نہ آسماں کیلئے
جہاں ہے تیرے لئے تو نہیں جہاں کیلئے
میں جانتا ہوں آج کا نوجوان ٹوٹا ہوا ہے اندر سے ۔ وہ شکار ہے غربت کا ، جہالت اور فرقہ پرستی کا ، وہ نڈھال ہے ، بدحال ہے ، اسی ماحول سے متاثر ہوکر کسی شاعر نے کہا ؎
پرندوں کی قطاریں اُڑ نہیں جاتیں تو کیا کرتیں
ہماری بستیوں میں سوکھی جھیلوں کے سوا کیا تھا
لیکن یہ سوکھی جھیلیں شاداب بھی تو ہوسکتی ہیں۔ پرندے بھی اپنے ہیں۔ جھیلیں بھی پرائی نہیں۔ مانا اک عجب سی افراتفری کا سا عالم ہے ۔ ہوا بھی تند ہے ، پروائی کا بھی دور دور تک پتہ نہیں ۔ چیخ نہ سہی پر سسکیاں بھی تو کچھ کم دردناک نہیں ہوتیں۔ ایسے میں دل کا دھڑکنا لازم ہے ۔ سب کچھ مانا پر یہ سوچ کی پستی کیوں ؟ کوئی پھر پاؤں میں گھنگھرو باندھ کر بلند آواز میں یہ کیوں نہیں گاتا۔
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں آئیں
وہ پھول کِھل کے رہینگے جو کِھلنے والے ہیں
تانپورا اُٹھاؤ ۔ اُس کی تاروں کو حساس کرو ، ماروا گاؤ ، یمن چھیڑو۔ جے جے ونتی کے سُرالاپو۔ کوئی راگ دیپک گاتا ہے ، اس سے مت الجھو ۔ اسے علم نہیں کہ وہ اپنی ہی لگائی ہوئی آگ کی زد میں ہے۔
میں معافی کا خواستگار ہوں کہ اردو میں لکھا اور بولا ہے۔ میری زوجہ نے 58 برس کی عمر میں علیگڑھ یونیورسٹی سے ادیب کامل کا امتحان پاس کیا تھا ۔ یہ مرض خاندانی ہے۔
علیگڑھ والو ! کہنے کو تو بہت کچھ ہے ، بس ایک بات اور۔
ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں