سری لنکا کو زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو نیوزی لینڈ کیخلاف شکست

کریسٹ چرچ ؍ سڈنی 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) آئی سی سی ورلڈکپ 2015 ء کے آغاز سے قبل ہی حیران کن نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں جیسا کہ خطاب کی دعویدار تصور کی جانے والی سری لنکائی ٹیم کو کسی قدر کمزور مانی جانے والی زمبابوے کے خلاف وارم اپ مقابلہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ جنوبی افریقہ جیسی طاقتور ٹیم میزبان نیوزی لینڈ کے خلاف منعقدہ مقابلہ میں یکطرفہ شکست برداشت کرچکی ہے جبکہ نشانہ کے تعاقب میں کمزور تصور کی جانے والی پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی۔ آج کھیلے گئے وارم اپ مقابلوں میں سب سے حیران کن نتیجہ سری لنکا اور زمبابوے کے درمیان کھیلے گئے مقابلہ کا نتیجہ رہا۔ سری لنکا نے زمبابوے کے خلاف پہلے بیاٹنگ کرتے ہوئے کرونا رتنے کی نصف سنچری (58) اور منڈیز کے 51 رنز کی بدولت 50 اوورس میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 279 رنز اسکور کئے جبکہ جوابی اننگز میں 35/2 کی نازک صورتحال سے باہر نکلتے ہوئے زمبابوے کی ٹیم نے 45.2 اوورس میں صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر 281 رنز اسکور کرتے ہوئے حوصلے بلند کرنے والی کامیابی حاصل کی۔

زمبابوے کی کامیابی کے معمار ہیملٹن مساکٹزا رہے جنھوں نے 119 گیندوں میں 8 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے ناقابل تسخیر 117 رنز بنائے جبکہ کپتان برینڈن ٹیلر آؤٹ ہونے والے تیسرے بیٹسمین رہے جنھوں نے 68 گیندوں میں 6 چوکوں پر مشتمل اپنی اننگز میں 63 رنز بنائے۔ علاوہ ازیں شان ولیمس نے صرف 46 گیندوں میں 7 چوکوں پر مشتمل اپنی اننگز میں تیز رفتار 51 رنز اسکور کرتے ہوئے کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ ایک اور مقابلہ میں میزبان نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر ٹرینٹ بولٹ نے 51/5 کی شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو 197 رنز پر ڈھیر کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

جے پی ڈومینی اگر 80 اور فیلنڈر 57 رنز کی اننگز نہ کھیلتے تو جنوبی افریقی ٹیم کی حالت مزید ابتر ہوتی جوکہ 332 رنز کے نشانے کا تعاقب کررہی تھی۔ نیوزی لینڈ نے برینڈن مکالم (59) اور کین ولیم سن (66) کی نصف سنچریوں کی بدولت 331/8 رنز بنائے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا وارم اپ مقابلہ کافی دلچسپ رہا جہاں انگلش ٹیم پہلے بیاٹنگ کرتے ہوئے نوجوان بیٹسمین جیو روٹ (85) اور گیری بیلنس (57) کی نصف سنچریوں کی بدولت 250 رنز اسکور کئے۔ پاکستانی ٹیم کی اننگز کا آغاز ناقص رہا جیسا کہ 22 اوورس میں صرف 78 رنز کے اسکور پر اس کی 4 وکٹیں پویلین لوٹ چکی تھیں جس میں اوپنرس ناصر جمشید (1) ، احمد شہزاد (2) ، یونس خان (19) اور حارث سہیل (33) کی وکٹیں شامل ہیں۔

اِس موقع پر کپتان مصباح الحق اور عمر اکمل کے درمیان پانچویں وکٹ کے لئے 133 رنز کی پارٹنرشپ بنی جس میں اکمل نے 66 گیندوں میں 3 چوکوں اور 3 چھکوں پر مشتمل اپنی اننگز میں 65 رنز بنائے۔ مصباح الحق نے 99 گیندوں میں 5 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے ناقابل تسخیر 91 رنز کی اننگز کھیلتے ہوئے ٹیم کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ لوور آرڈر میں جب تیزی سے رنز بنانے تھے تب صہیب مقصود نے 12 گیندوں میں 4 چوکوں کی مدد سے 20 اور شاہد آفریدی نے 2 چوکوں کی مدد سے ناقابل تسخیر 8 رنز اسکور کئے جس میں فتح دلوانے والے چوکے بھی شامل ہیں۔ پاکستانی بولروں میں اسپنر یاسر شاہ نے 10 اوورس میں 45 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ نوجوان فاسٹ بولر سہیل خان نے چند دلکش یارکرس کے ذریعہ 47 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انگلینڈ کے لئے جیمس اینڈرسن اور اسٹیورٹ براڈ نے بالترتیب 42 اور 51 رنز کے عوض فی کس دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔