نئی دہلی۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ این سرینواسن اور دیگر 12 افراد جوکہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہیں ، ان کے خلاف بی سی سی آئی کو خود تحقیقات کرنی چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے آج سندر رمن کو انڈین پریمیر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کیلئے چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدہ پر ذمہ داریوں کو انجام دینے کی اجازت دی ہے۔ جسٹس اے کے پٹنائک پر مشتمل بینچ نے آج ایس آئی ٹی یا سی بی آئی تحقیقات پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی سی سی آئی ایک خودمختار ادارہ ہے لہذا اسے ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے تحقیقات کرنی چاہئے۔
بینچ نے مزید کہا کہ جس طرح کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں اس کے بعد ہم اپنی آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھ سکتے، کیونکہ یہ معاملہ انفرادی شخصیتوں کا نہیں بلکہ ملک میں کرکٹ کا ہے۔ جسٹس مدگل کمیٹی کی جانب سے داخل کردہ سربمہر رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بینچ نے کہا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام الزامات سے سرینواسن کو واقف کروایا گیا تھا لیکن انہوں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جس کا مطلب یہ ہوا کہ سرینواسن ان تمام الزامات سے واقف تھے اور انہوں نے اس پر کوئی سنجیدگی ظاہر نہیں کی۔ دریں اثناء بینچ نے آئی پی ایل 7 جس کا ابوظہبی میں آغاز ہورہا ہے ، اس کے لئے رمن کو چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدہ پر خدمات انجام دینے کی اجازت دی ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے گواسکر کو ہدایت دی تھی کہ وہ رمن کو بحیثیت سی ای او برقرار رکھنے یا برطرف کرنے کا فیصلہ کریں۔