بودھن 11 فبروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے حاملہ خواتین کو سرکاری دواخانوں میں زچگی کروانے کیلئے ترغیب دی جارہی ہے۔ لیکن سرکاری ہاسپٹلس کا یہ حال ہے کہ کہیں ادویات کی کمی تو کہیں عملہ کے افراد غیر حاضر رہتے ہیں۔ یہ شکایت منڈل سطح کے دواخانوں کی نہیں بلکہ ڈیویژن مستقر پر واقع سرکاری دواخانہ اور ضلع ہیڈکوارٹر ہاسپٹل نظام آباد سے رجوع ہونے والی خواتین کی ہے۔ تفصیلات کے بموجب کل کوٹگیر منڈل کے موضع ترملاپور کی ایک حاملہ خاتون سنیتا اور موضع امدوپور کی خاتون انیتا زچگی کیلئے گورنمنٹ ایریا ہاسپٹل بودھن سے رجوع ہوئے جن کا یہاں مکمل طبی معائنہ کرنے کے بعد مقامی ڈاکٹرس نے زچگی کیلئے آپریشن کرنا ناگزیر قرار دیا اور یہاں ہاسپٹل میں انستھیسیا ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ خواتین کو ضلع ہیڈکوارٹر ہاسپٹل نظام آباد روانہ کردیا گیا
وہاں بھی انستھیسیا ڈاکٹر غیر حاضر رہنے پر وہاں سے ان دونوں خواتین کو واپس بودھن روانہ کردیا گیا۔ کوٹگیر سے بودھن، بودھن سے نظام آباد پھر واپس بودھن گھوم پھر کر یہ حاملہ خواتین تھک گئی تھیں۔ ان کے رشتہ داروں نے ان حاملہ خواتین کے مسئلہ کو گورنمنٹ ہاسپٹل کمیٹی کے اعزازی رکن و تحصیلدار بودھن مسٹر راجیشور کے سامنے رکھا۔ تحصیلدار نے اِن خواتین کو نوی پیٹھ منڈل کے سرکاری دواخانہ سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا جو یہاں سے تقریباً 30 کیلو میٹر دور ہے۔ حاملہ خواتین اور ان کے رشتہ داروں نے تحصیلدار کے مشورے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے مجبوراً بودھن کے خانگی نرسنگ ہومس میں شریک ہوگئے۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے سرکاری دواخانوں میں علاج معالجہ اور زچگیاں کروانے عوام ضلع انتظام اور قائدین پر برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔