ممبئی 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) شیو سینا نے سپریم کورٹ کے حالیہ حکم پر ذہنی تحفظات کا اظہار کیا ہے جن کے تحت سرکاری اشتہارات میں قائدین کی تصاویر شائع کرے پر امتناع عائد کیا گیا ہے ۔ شیو سینا کے سرکاری ترجمان روزنامہ ’’سامنا‘‘ کے ایک اداریہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم حکومت کے امور میں مداخلت اور عاملہ کے اختیارات پر ناجائز قبضہ کرنے کے مترادف ہے ۔ حکومت کے امور میں مسلسل مداخلت سے عدالتوں کی ساکھ متاثر ہوگی ۔ شخصیات پرستی کو جمہوریت کا مخالف نظریہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے دن سرکاری اشتہارات میں قائدین کی تصاویر کی اشاعت پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ صرف صدر جمہوریہ ‘وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف انڈیا کو اس حکمنامہ سے مستثنی رکھا گیا ہے ۔ سرکاری اشتہارات کے بارے میں رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکز کے اس موقف کو مسترد کردیا کہ عدلیہ کو حکومت کی پالیسیوں اور عاملہ کے فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے ۔