سرپور پیپر ملز بند ،نظام دور کی نشانی مٹانے کی سازش

سرپور ٹاون 9 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام دور حکومت نے تلنگانہ کے عوام کو روزگار خاص طور پر تعلقہ سرپور ٹاون کے عوام کی پسماندگی دور کرنے کی غرض سے اس وقت کے سینئر انجینئر محمدلائق علی کی نگرانی میں سرپور ٹاون مستقر پر کاغذ نگر کی فیاکٹری کیلئے سنگ بنیاد رکھا ۔ اس کاغذ نگر فیکٹری کی مکمل طور پر کارروائی سرپور ٹاون کے نام پر ہوئی تھی لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے اس کاغذ کی فیاکٹری کو سرپور ٹاون کے بجائے کوتہ پیٹ کو منتقل کیا گیا اور 1938 سال میں کوتہ پیٹ میں ایس پی ایم سرپور پیپرمل کا افتتاح کیا گیا لیکن فیاکٹری کے تمام پیپرس اور کارروائی سرپور ٹاون کے نام سے ہوچکی تھی لیکن کاغذ کی فیاکٹری کا افتتاح کوتہ پیٹ میں کیا گیا تھا ۔ اس لئے دھیرے دھیرے کوتہ پیٹ گاوں کو برخواست کرتے ہوئے کاغذ کی تیاری ہونے والے گاوں کو کاغذ نگر کے نام سے موسومکیا گیا ہے ۔ اور آج بھی کاغذ کی فیاکٹری کی بدولت کوتہ پیٹ کے بجائے کاغذ نگر نام لیا جاتا ہے اور نظام دور حکومت نے یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو مد نظر رکھتے ہوئے نظام دور حکومت نے حلقہ سرپور ٹاون کے عوام اور خصوصا فیاکٹری کے ملازمین کی سہولت کی خاطر چار عبادت گاہوں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ان میں مسلم اقلیتوں کیلئے جامع مسجد ،عیسائیوں کیلئے چرچ ،ہندووں کیلئے مندر ،سکھوں کیلئے گردوارہ کی تعمیراتی اموں کو مکمل کرنے کے بعد میں سرپور پیپر مل کا تعمیراتی کاموں کو انجام دیا گیا اور ان چار مسلم ،ہندو و سکھ اور عیسائی کے عبادت گاہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داروں کا سلسلہ آج بھی سرپور پیپر مل اٹھاتی اور ذمہ داری ہیں۔سرپور ٹور پیپر مل کو براعظم ایشیاء میں صف اول کی بھاری صنعتوں میں شمار کیا جاتا ہے اس سرپور پیپر مل میں ڈیوٹی انجام دینے والے مستقل مزدور کی تعداد 1500 اور اسٹاف کی تعداد 600 اور اس فیاکٹری میں عارضی ڈیوٹی انجام دینے والوں کی تعداد 1900 ہیں لگ بھگ 1000 ایکر اراضی پر یہ فیاکٹری کی تعمیر کی گئی ہے اور اس اراضی میں گارڈن اسکولوں ،ملازمین کیلئے کوارٹرس اور کھیلوں کے میدان بھی شامل ہیں ۔ سرپور پیپر مل سے کاغذ کا پروڈکشن 1942 سال میں صرف ایک ہی مشن کے ذریعہ ایک دن میں 14 ملین ٹن کی کاغذ کی تیاری ہوتی تھی۔ دھیرے دھیرے اس فیاکٹری نے ترقی کرتے ہوئے 250 تا 300 ٹن 8 مشینوں کے ذریعہ تیاری بند کردیا گیا اور سرپور پیپر مل کے مالک کی جانب سے اس فیاکٹری کے ہونے والے نقصانات سے فیاکٹری ملازمین کو آگاہ کیا گیا ۔ اس طرح سے 25ستمبر 2014 سال سے یعنی 8 ڈسمبر 2014 سے 70 دنوں سے زیادہ سرپور پیپر مل مکمل طور پر بن دہوگئی ہے اور کاغذ کی تیاری بھی بند پڑی ہے جس کی وجہ سے عوام اور سرپور پیپر مل میں ڈیوٹی انجام دینے والے جملہ لگ بھگ 4000 لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے فیاکٹری کے ملازمین کو زندگی گذارنہ مشکل ہوگیا ہے اگر دوبارہ سرپور پیپر مل میں کاغذ کی تیاری کا آغاز نہیں کیا گیا تھا پھرکاغذ نگر جو کہ فیاکٹری کے قیام سے قبل کوتہ پیٹ کے نام سے جانا جاتا تھا پھر دوبارہ کوتہ پیٹ ہوجائے گا اور 4000 فیاکٹری کے ملازمین کے لگ بھگ 20 ہزار لوگ بیروزگار ہونے کا اندیشہ ہیں۔ اگر سرپور پیپر مل بھی بند ہوجاتی ہیں تو سارے کاغذ نگر میں بیروزگاری میں اضافہ ہوگا اور اس طرح سے کاغذ نگر اپنے ماضی میں جاتے ہوئے دوبارہ کوتہ پیٹ ہوجائے گا ۔ اس لئے سرپور پیپر مل کے تمام ملازمین اور عوام کا متعلقہ رکن اسمبلی اور چیف منسٹر سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد سرپور پیپر مل کی دوبارہ بحالی کو یقینی بنایا جائے تا کہ سرپور پیپر مل کے مزدور بیروزگاری کا شکار ہونے سے محفوظ رہے ۔ ورنہ ریاستی حکومت کے برے بڑے اعلانات صرف کاغذی اعلانات بن کررہے جائیں گے کیونکہ ریاست حکومت بے گھر کو گھر کی منظوری دے رہی ہے اور بیروزگار کو روزگار فراہم کرتے ہوئے کئی اسکیمات کا تعارف کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست سے بیروزگاری کا خاتمہ کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے اگر سرپور پیپر مل کا آغاز نہیں کیا گیا تو حکومت کے اعلانات صرف اخبارات تک ہی محدود ہوں گے ۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ آگے ہوتا ہے کیا ۔ یہاں پر اس بات کا انکشاف کرنا ضروری ہے کہ تلنگانہ کے چیف منسٹر اقتدار حاصل کرنے سے قبل اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھی نظام دور حکومت میں روزگار فراہم کرنے کیلئے تمام فیاکٹری کی حفاظت کرنے کا تیقن دیا ۔ اب وقت آگیا کہ اپنے وعدوں پر پابندی سے عمل میں کرنے کا ۔