چپہ ڈنڈی۔20اگست( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ایک لاکھ قرض لیکر موٹر گاڑی خرید ہے ‘ اب سروے کے نام پر موٹر کا اندراج فارم کرلیا گیا ہے لیکن اس کیلئے حاصل کئے گئے قرض کا اندراج نہیں کیا گیا ۔ حکومت ہمارے راشن کارڈ ‘ وظیفہ ‘گھروں کی منظوری روک دیں تو اس کے ذمہ دار کون ہوں گے ۔ گاڑیوں کے اندراج کا کالم نکال دیا جائے کہہ کر منڈل بھوپال پٹنم کے کسانوں نے احتجاج کیا ۔ سدھاکر گوڑ‘ تریتھ ریڈی وغیرہ کسانوں نے جو قرض پر گاڑی لے رکھی تھی سروے کے لئے آئے ہوئے شمارکنندوں سے بحث پر اتر آئے ۔ سروے کے رجسٹرڈ میں پانچواں کالم میں عہدیداروں نے گاڑیوں کا اندراج کرنے کا حکم دیا تھا ۔ ایک گاڑی کی قیمت 30تا 50ہزار ادا کرنے پر فینانس کیا جارہا ہے ۔ قرض لیکر خریدی گئی گاڑیوں کو اثاثہ جات کے خانہ میں درج کیا جارہا ہے‘ یہ سراسر ظلم ہے ناانصافی ہے۔ اسی کے ساتھ قرض کا کالم بھی بھرنا چاہیئے تھا ۔ سروے میں ہماری مالی حالت کا اندراج کا حکومت کو صحیح علم نہیں ہوگا ‘ ہم مقروض ہیں لیکن گاڑیوں کا مالک بتلایا جارہا ہے یہ سروے صحیح نہیں ہے کہہ کر احتجاج کیا ۔