سرورالہدیٰ شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ

خیام شناسی

اخلاق احمد آہن کی مرتبہ کتاب ’’خیام شناسی‘‘ اردو میں خیام پر ترتیب دی ہوئی غالباً پہلی کتاب ہے۔ خیام شناسی کی باضابط ابتدا تو علامہ شبلی کی شعر العجم سے ہوتی ہے اور بعد کو شبلی کے شاگرد عزیز سید سلیمان ندوی نے خیام کے نام سے ایک پوری کتاب لکھی جسے حال ہی میں دار المصنفین نے دوبارہ شائع کردیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خیام پر ان دو عالموں کی تحریروں سے اس بات کا ہمیں علم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں خیام شناسی کے دو اہم ترین حوالے اردو کے دو عالم کی تحریریں ہیں۔ یہ بھی ایک خوشگوار اتفاق ہے کہ خیام کا نام آتے ہی فطری طور پر استاد اور شاگرد یعنی شبلی اور سلیمان ندوی کا خیال ذہن میں ابھرتا ہے اور یہ سعادت بھی تاریخ میں کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے کہ استاد کو بھی علامہ کہا جائے اور اس کے شاگرد کو بھی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے ادھر چند برسوں میں اپنی علمی اور ادبی سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہوئے شام شہریاراں کے تحت ادبی ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس ملاقات میں ادبی شخصیات سے گفتگو بھی کی جاتی ہے اور کسی کتاب پر مذاکرہ بھی ہوتا ہے۔ کل یعنی ۲۶؍ اکتوبر کی شام ، غالب انسٹی ٹیوٹ میں شام شہر یاراں کے موقع پر خیام شناسی پر مذاکرہ ہوا۔ جس میں اساتذہ، طلبا اور ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ اس جلسے کی صدارت پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے سید شاہد مہدی شریک ہوئے۔ جلسے کی نظامت جواں سال اسکالر ڈاکٹر سید نقی عباس نے کی۔ شام شہریاراں کی کل کی شام دراصل رباعی کی شام تھی۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی ایک شاعر کا نام کسی ایک صنف سے اس طرح مخصوص ہو جائے ۔ شاید دہلی کی ادبی تاریخ میں یہ پہلی شام تھی کہ وہ خیام کے لیے مخصوص کی گئی تھی اور جس میں صرف ایک صنف ’’رباعی‘‘ گفتگو کا موضوع بنی۔ مجمعے میں فارسی کے ساتھ اردو کے بھی لوگ موجود تھے اور کچھ لوگ دوسری ہندوستانی زبانوں کے بھی تھے مگر ایسا محسوس ہوا کہ خیام صرف فارسی یا فارسی والوں کا نہیں بلکہ سبھی کا ہے۔ زبان سے شناسائی اس لیے ضروری ہے تاکہ کسی شاعر کو اس کی اصل زبان میں پڑھا جا سکے لیکن بعض اوقات زبان ثانوی درجہ تو اختیار نہیں کرتی مگر جذبہ، احساس اور خیال آگے نکل جاتا ہے اور مشکل لفظ پیچھے چھوٹ جاتاہے۔ مشکل لفظ کا پیچھے چھوٹ جانا اور خیال کا آگے بڑھ جانا لفظ کی ہار اور خیال کی جیت تو نہیں مگر یہ بات بہرحال ثابت ہوتی ہے کہ ہم کسی شعر سے کبھی بھی مکمل طور پر سب کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ جب اصل زبان جاننے کے باوجود ہم کسی متن سے سب کچھ حاصل کرنے اور اسے اپنی گرفت میں لے لینے کا دعویٰ نہیں کر سکتے تو پھر ترجمہ شدہ متن کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا ہی فضول ہے کہ ترجمہ اصل سے بڑھ گیا ہے یا ترجمہ اصل سے بہت قریب ہے۔ ترجمے کا اصل سے قریب ہونا ترجمہ نگار کی بہت بڑی کامیابی ہے مگر کبھی ترجمہ اصل سے دور ہونے کے باوجود کچھ نہ کچھ ہمیں دیتا ہی ہے۔ کسی ترجمے کو یہ سوچ کر پڑھنا ہی غلط ہے کہ ہم اصل متن پڑھ رہے ہیں۔ کل کی ادبی شام جو خیام سے منسوب تھی اس میں خیام کی شاعری کے مختلف تراجم پر بحثیں ہوئیں۔ بعض ترجموں کو اصل سے گریزاں بتایا گیا اور اس طرح ترجمہ ایک غیر ضروری مشغلے کے طور پر اپنا تعارف پیش کرتا ہے۔ اخلاق احمد آہن نے ترجمے کے مسائل سے خود کو الگ کرنے کے بجائے انھیں حل کرنے کی عملی کوشش کی ہے۔ کتاب کے اخیر میں انھوں نے خیام کی رباعیوں کے منثور ترجمے پیش کیے ہیں۔ ان ترجموں کو پڑھ کر میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ ترجمہ نگار بنیادی متن سے با معنی رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس عمل میں کسی پہلو کا رہ جانا کسی جہت پر نگاہ کا نہ جانا بہت فطری ہے۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی علمی، ادبی کام کا حاصل دراصل پڑھنا، سمجھنا اور اس کے بارے میں لکھنا ہے۔ اخلاق احمد آہن کی یہ کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اپنی ادبی تاریخ سے کسی طرح دلچسپی پیدا کرنی چاہیے اور کوئی ادیب یا شاعر کس طرح ایک طویل عرصے کے بعد قاری کو اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے۔ اخلاق احمد آہن کو میں ان کی طالب علمی کے زمانے سے جانتا ہوں۔ اتفاق سے جے ان یو میں میری اور ان کی طاب علمی کا زمانہ بھی ایک تھا۔کل بھی وہ علمی کاموں میں منہمک تھے اور آج بھی جب کہ وہ پروفیسر ہیں ان کے علمی انہماک میں اضافہ ہی ہوا ہے اور انھوں نے بہت سنجیدگی اور خاموشی کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ علمی پیاس وقت کے ساتھ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ اس مذاکرے میں تمام مقررین نے اخلاق احمد آہن کی اس علمی کوشش کی تعریف کی اور جو مضامین کتاب میں شامل کیے گئے ہیں ان کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کیا۔ جن لوگوں نے اس موقع پر اظہار خیال کیا ان کے نام ہیں۔ پروفیسر عبد الحق، پروفیسر چندرشیکھر، پروفیسر عراق رضا زیدی، پروفیسر عبد الخالق رشید، ڈاکٹر علی اکبر شاہ، سید شاہد مہدی،صدیق الرحمن قدوائی اور ڈاکٹر رضا حیدر۔ ابتدا میں ڈاکٹر رضا حیدر ، ڈائرکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ نے کتاب کا تعارف پیش کیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک طویل عرصے کے بعد دلّی میں خیام پر گفتگو ہو رہی ہے اور اس کے لیے ڈاکٹر اخلاق احمد آہن مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پروفیسر عبد الخالق رشید نے اپنی تقریر میں خیام کے تراجم اور یوروپ میں خیام کی مقبولیت کے اسباب بتائے اور یہ بھی کہا کہ ہمیں ہمارے بارے میں مغرب پہلے بتاتا ہے کہ ہمارے پاس کیا کچھ ہے اور اس کے بعد ہم اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ پروفیسر عراق رضا زیدی نے اپنی تقریر میں خیام کی مشرقیت پر زور دیا ہے اور انھیں اپنی روایت کی روشنی میں دیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ پروفیسر چندر شیکھر نے اس بات پر زور دیا کہ خیام کی رباعیوں میں زندگی کے مختلف رنگ ہیں اور کچھ فلکیات کے مسائل بھی ہیں۔پروفیسر علیم اشرف نے کتاب کا ناقدانہ جائزہ پیش کیا۔ جناب سید شاہد مہدی کی گفتگو سے اس بات کا اندازہ لگانا دشوار نہیں تھاکہ وہ شعر و ادب کے کتنے سنجیدہ اور ذہین قاری ہیں۔ وہ ہمیشہ ادبی محفلوں میں مطالعے کے اعتبار سے تازہ دم ہو کر آتے ہیں اور کسی نہ کسی نئے پہلو کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ کل بھی ایسا ہی ہوا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں خیام کی رباعیوں کے ترجمے اور ان پر لکھی جانے والی چند نایاب تحریروں کا حوالہ دیا۔ ان کی یہ بات بہت توجہ سے سنی گئی کہ دیکھیے کہ کون سی رباعی خیام کی ہے اور کون سی رباعی خیام کی نہیں ہے ، اس کا فیصلہ محققین کو ضرور کرنا چاہیے لیکن کچھ فیصلے قاری پر چھوڑ دینے چاہیے۔ اخلاق احمد آہن نے مذاکرے میں اٹھائے جانے والے مختلف سوالات کے کچھ اس طرح جواب دیے کہ اس میں انکسار بھی تھا اور آئندہ خوب سے خوب تر کی جستجو کا جذبہ بھی اور اس بات کا عکس بھی موجود تھا کہ وہ کتاب کی تیاری میں کن مشکل مراحل سے گزرے ہیں۔ مقدمے میں انھوں نے تفصیل سے اس کتاب کی تالیف اور ترتیب وغیرہ کے تعلق سے اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے حواشی اور حوالہ جات کا اہتمام بھی کیا ہے۔ مجموعی طور پر سبھوں نے ان کی اس کاوش کی تعریف کی۔ اخیر میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اس علمی مذاکرے کو ایک اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے مرتب کو مبارکباد دی اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں تنقید بھی تھی اور تحسین بھی۔ اسی سے فکر آگے بڑھتی ہے اور آئندہ بھی غالب انسٹی ٹیوٹ میں اس قسم کے جلسے منعقد ہوتے رہیں گے۔