سرفہرست کھلاڑیوں کو کوئی خطرہ نہیں : فیڈرر

لندن ۔ 7 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجر فیڈرر نے ان عزائم کا اظہار کیا ہیکہ آئندہ برسوں میں بھی گرانڈ سلام ٹورنمنٹ میں خطاب کے دعویداروں میں شامل رہیں گے کیونکہ نئی نسل کے کھلاڑیوں میں گرانڈ سلام کی سطح پر فتوحات حاصل کرنے کا دم خم نہیں ہے۔ فیڈرر جنہیں گذشتہ رات ریکارڈ آٹھویں ومبلڈن خطاب کیلئے فائنل میں نواک جوکووچ کے خلاف تقریباً 4 گھنٹے طویل مقابلہ میں 7-6(9)، 4-6، 6-7(4)، 7-5، 4-6 کی شکست برداشت کرنی پڑی۔ جوکووچ نے اپنا دوسرا گرانڈ سلام خطاب حاصل کرنے کے علاوہ عالمی درجہ بندی میں دوبارہ نمبر ایک مقام بھی حاصل کرلیا ہے جبکہ دوسری جانب 32 سالہ فیڈرر 2012ء ومبلڈن کے بعد ہنوز کوئی گرانڈ سلام حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اس دوران 18 کوششیں کی ہیں۔ گھاس کے میدان کے باہر آخری بڑی کامیابی انہیں 2010ء آسٹریلین اوپن میں حاصل ہوئی تھی اور آئندہ برس جب ومبلڈن کھیلا جائے گا تو فیڈرر تقریباً 34 برس کے ہوجائیں گے۔ 17 مرتبہ کے گرانڈ سلام چمپیئن فیڈرر کی نظر میں نوجوان کھلاڑیوں میں گرانڈ سلام ٹورنمنٹ میں خطابات حاصل کرنے کی غیرمعمولی صلاحیتیں وجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے سرفہرست چار کھلاڑیوں جوکووچ، رافل نڈال، راجر فیڈرر اور اینڈی مرے کو تاحال کوئی سخت چیلنجس درپیش نہیں۔ بلغاریہ کے 23 سالہ گریجار دیمترو اور کینیڈا کے 23 سالہ میلوس رانک نے جوکووچ اور فیڈرر کے خلاف سیمی فائنل کھیلا ضرور ہے تاہم وہ سینئر کھلاڑیوں کو شکست نہیں دے پائے ہیں۔