’فوری اثر کیساتھ استعفیٰ قبول کیا جائے‘ صدر کانگریس راہول گاندھی کو مکتوب
نئی دہلی 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر لیڈر سجن کمار نے 1984 ء کے مخالف سکھ فسادات میں مجرم قرار دیئے جانے کے بعد آج اپنی پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی کے نام اپنے مکتوب میں سابق رکن پارلیمنٹ سجن کمار نے کہاکہ ان کے استعفیٰ کو فوری اثر کے ساتھ منظور کیا جائے۔ دہلی ہائی کورٹ نے 1984 ء میں سکھوں کے خلاف ہوئے ان فسادات میں اُنھیں جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا دی تھی۔ ان فسادات میں کم سے کم 2,700 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سجن کمار نے راہول گاندھی کے نام اپنے مکتوب میں کہاکہ ’’دہلی کی معزز عدالت کے میرے خلاف فیصلہ پر مَیں کانگریس کی ابتدائی رکنیت سے فوری اثر کے ساتھ مستعفی ہورہا ہوں‘‘۔ سجن کمار کے ایک قریبی مددگار نے کہاکہ 1984 ء کے مخالف سکھ فسادات کے مقدمہ میں دہلی ہائیکورٹ کے فیصلے کے اعلان کے بعد وہ اپنی پارٹی کو کسی پشیمانی سے دوچار کرنا نہیں چاہتے۔ ان کے مددگار نے یہ وضاحت بھی کی کہ تین مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے 73 سالہ سجن کمار کا کوئی ٹوئیٹر اکاؤنٹ نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر ان سے منسوب تبصرے ان کی طرف سے نہیں کئے گئے تھے۔ سجن کمار کو 2 نومبر 1984 ء کے دوران جنوبی دہلی کی پالم کالونی کے راج نگر حصہ اول علاقہ میں پانچ سکھوں کی ہلاکت سے متعلق مقدمہ میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ 31 اکٹوبر 1984 ء کو اُس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ باڈی گارڈز کے ہاتھوں قتل کئے جانے کے بعد پھوٹ پڑنے والے مخالف سکھ فسادات میں یکم تا 4 نومبر کے دوران سرکاری اعداد کے مطابق کم سے کم 2,733 سکھ ہلاک کئے گئے تھے۔اُس وقت سجن کمار کو بیرون دہلی کے علاوہ اطراف و اکناف کے مواضعات اور سلم علاقوں میں قابل لحاظ عوامی تائید حاصل تھی۔