سجاد لون کا وزارت قبول کرنے سے انکار

جموں ؍ سرینگر ۔ 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) علحدگی پسند سے سیاستداں بننے والے سجاد لون نے سمجھا جاتا ہیکہ سائنس و ٹیکنالوجی اور افزائش مویشیان کی وزارت کا قلمدان سنبھالنے سے انکار کردیا ہے۔ وہ واضح طور پر اس بات پر ناراض ہیکہ انہیں اہم وزارت نہیں سونپی گئی۔ انہوں نے اپنے قلمدانوں کا جائزہ نہیں لیا۔ اس کے بجائے وہ پہلی پرواز سے جموں سے باہر سرینگر چلے گئے۔ ایرپورٹ پر ان کی وزارت نے ایک عہدیدار کو اور صیانتی عملہ کو روانہ کیا تھا لیکن انہوں نے کسی سے بھی ملاقات سے انکار کردیا اور سرینگر کے مضافات میں اپنی قیامگاہ واقع راول پورہ روانہ ہوگئے۔ وہاں وہ اپنے گھر میں بند ہوگئے اور دونوں موبائیل فون بند کردیئے۔ سجاد لون کو سائنس و ٹیکنالوجی اور افزائش مویشیان کے قلمدان کل شام قلمدانوں کی تقسیم کے موقع پر سپرد کئے گئے تھے۔ دریں اثناء پی ڈی پی نے اس تبدیلی سے خود کو بے تعلق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ بی جے پی اور پیپلز کانفرنس کا درمیانی مسئلہ ہے۔ ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا ہے۔

بی جے پی کے ترجمان اور نائب صدر ریاستی شاخ رمیش ارورہ نے کہا کہ ہم لون سے بات چیت کرنے سے قبل کوئی بھی تبصرہ نہیں کریں گے۔ دریں اثناء گورنر جموں و کشمیر این این ووہرہ نے آج اعلان کیا کہ پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت کا اولین بجٹ اجلاس 18 مارچ سے شروع ہوگا۔ راج بھون کے ترجمان نے کہا کہ ایک علحدہ اعلان جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کے بارے میں جاری کردیا گیا ہے۔ سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب شہر کے قلب میں تمام دکانیں اور تجارتی ادارہ آج بند رہے۔ تاجروں نے حکومت کے خلاف اس کی گذشتہ سال کے سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے سے مبینہ طور پر قاصر رہنے کی وجہ سے یہ بند منایا گیا۔ تجارتی مرکز لال چوک کے اطراف و اکناف کے تمام تجارتی ادارے دن بھر بند رہے۔ کشمیر کے تاجروں اور پیداوار کنندوں کے فیڈریشن نے الزام عائد کیا ہیکہ حکومت معاوضہ کی ادائیگی کیلئے کچھ بھی نہیں کررہی ہے۔