ستیم کمپیوٹر اسکام مقدمہ کے فیصلہ کی تاریخ 9 مارچ مقرر

حیدرآباد ۔ 23 ۔ دسمبر : ( پی ٹی آئی ) : ستیم کمپیوٹر سرویسیس لمٹیڈ کے قبل ازیں کروڑہا روپیوں کے کھاتوں کے گھوٹالے میں فیصلہ کے لیے آج ایک خصوصی عدالت نے 9 مارچ 2015 تاریخ طئے کی ہے ۔ اس کیس کے ویلیو مس پر مبنی دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے خصوصی جج آر وی ایل این چکرورتی نے سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے ذریعہ معاملہ فہمی کرتے ہوئے کہا کہ 9 مارچ کو اس کیس کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ جج نے پراسیکیوشن اینڈ ڈیفنس کونسل کو بتایا کہ اس کیس کے ویلیوم کو جاننے کے لیے مزید کچھ وقت درکار ہے ۔ آپ مطمئن ہوسکتے ہیں یا نہیں لیکن مجھے خود مطمئن ہونا چاہئے ۔ اس فیصلہ کو ٹائیپ کرنے کے لیے 2 تا 3 ہفتے درکار ہیں ۔ لگ بھگ 6 سال قبل ٹرائیل کے دوران تقریبا 3000 دستاویزات کو مارک کیا گیا اور 226 گواہوں کی جانچ کی گئی تھی ۔ سی بی آئی کے خصوصی پبلک پراسیکوٹر کے سریندر نے کہا کہ ستیم کیس میں فیصلہ کے لیے مارچ 9 حتمی تاریخ جج نے طئے کی ہے ۔ ستیم کمپیوٹرس کے بانی و چیرمین بی راما لنگا راجو نے ان کے برادران اور اس کے سابق مینجنگ ڈائرکٹر بی راما راجو ، سابق چیف فینانشیل آفیر والا منی سرینواس اور دیگر شریک جرم عدالت میں موجود تھے ۔ واضح رہے کہ ملک کے سب سے بڑے کھاتوں کے گھوٹالے کے اسکام کا انکشاف 7 جنوری 2009 کو راما لنگا راجو کے متفقہ اقراء پر ہوا کہ ان کی کمپنی کے اکاونٹ بکس میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔ اس معاملہ میں دیگر ملزمین میں سابق پی ڈبلیو سی آڈیٹرس سبرامنی گوپالا کرشنن اور ٹی سرینواس ، راجو کے دیگر برادر بی سوریا نارائنا راجو ، سابق ملازمین جی راما کرشنا ، ڈی وینکٹ پتی راجو اور سی ایچ سری سیلم اور ستیم کے سابق داخلی چیف آڈیٹر وی ایس پربھاکر گپتا شامل ہیں ۔۔